امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 3 ستمبر : ڈویژنل کمشنر کشمیر، انشل گرگ نے بدھ کو کہا کہ گزشتہ روز سے جاری بارشوں اور بڑھتے ہوئے پانی کی سطح کے پیشِ نظر جنوبی کشمیر کے ساتھ ساتھ سرینگر کے کچھ حصوں میں بھی احتیاطی انخلاء شروع کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
انہوں نے کہا: "جیسا کہ ہم نے کل سے مسلسل بارش دیکھی ہے، خاص طور پر جنوبی کشمیر میں، پانی کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے اور یہ رجحان اب بھی جاری ہے۔ چیف سیکریٹری جموں و کشمیر کی صدارت میں ایک جائزہ میٹنگ میں فیصلہ لیا گیا کہ احتیاطی اقدامات کیے جائیں۔ اسی کے مطابق پلوامہ، اننت ناگ اور کولگام کے کچھ علاقوں میں احتیاطی انخلاء کیا جا رہا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ سرینگر کے کچھ حصوں میں بھی احتیاطی اقدام کے طور پر انخلاء جاری ہے۔ "ہم عوام سے گزارش کرتے ہیں کہ تعاون کریں، ہدایات پر عمل کریں اور جہاں ممکن ہو محفوظ مقامات پر منتقل ہوں،” انہوں نے کہا۔
ڈویژنل کمشنر نے مزید بتایا کہ وادی بھر میں 300 سے زائد عمارتوں کو ریلیف مراکز کے طور پر نشاندہی کیا گیا ہے۔ "ضروری سامان بشمول کھانے پینے کی اشیاء، پانی اور بجلی کو یقینی بنایا گیا ہے تاکہ کسی کو کوئی دشواری نہ ہو۔ جو لوگ اپنے رشتہ داروں کے پاس منتقل ہونا چاہتے ہیں، ان سے گزارش ہے کہ فوری طور پر ایسا کریں، جبکہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹس نے محفوظ مقامات پہلے ہی متعین کر لیے ہیں،” انہوں نے کہا۔
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ضروری اشیاء کے حوالے سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ "ہمارے پاس پٹرول، ڈیزل اور دیگر سامان کا وافر ذخیرہ موجود ہے۔ تمام ایمرجنسی نمبر اور ہیلپ ڈیسک فعال ہیں، رابطہ کاری قائم ہے، بجلی اور مواصلاتی خدمات بھی بحال ہیں،” گرگ نے کہا۔
انہوں نے عوامی تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا: "انتظامیہ ہائی الرٹ پر ہے، صورتحال قابو میں ہے، مگر اگلے چھ سے سات گھنٹے نہایت اہم ہیں۔ ہم سب کو محتاط اور ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔” (کے این سی)










