امت نیوز ڈیسک //
لیہ، 2 اکتوبر : لیہ اپیکس باڈی (LAB) نے لداخ کی یونین ٹیریٹری انتظامیہ کی جانب سے 24 ستمبر کے واقعے پر مجسٹریل انکوائری کے اعلان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے ایک اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ دہرایا ہے۔ اس واقعے میں پولیس فائرنگ کے دوران چار شہری جاں بحق ہوئے تھے۔
ایل اے بی کے شریک چیئرمین چیرنگ دورجے نے کشمیر نیوز ٹرسٹ سے بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ سب ڈویژنل مجسٹریٹ نوبرا کی سربراہی میں ہونے والی اس انکوائری کو وہ تسلیم نہیں کرتے۔
انہوں نے کہا: "ہم پہلے دن سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ لداخی عوام کے قتل پر عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے۔ ہمیں جاننا ہے کہ بغیر کسی وارننگ کے شہریوں پر فائرنگ کا حکم کس نے دیا۔ ہم مجسٹریل انکوائری کو مسترد کرتے ہیں اور اسے قبول نہیں کرتے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت کے ساتھ کوئی بات چیت تب تک ممکن نہیں جب تک ان کے بنیادی مطالبات پورے نہ ہوں۔ "مرکز کے ساتھ مذاکرات اس وقت تک ممکن نہیں جب تک عدالتی انکوائری کا اعلان نہ ہو اور تمام گرفتار افراد، بشمول سونم وانگچک، رہا نہ کیے جائیں۔ حکومت کو عوام کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا۔”
خیال رہے کہ انتظامیہ نے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس ڈی ایم نوبرا مکُل بینیوال (IAS) کو انکوائری آفیسر مقرر کیا ہے، جنہیں چار ہفتوں میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ انکوائری کے دوران عوامی گواہی اور شواہد 4 اکتوبر سے 18 اکتوبر تک ریکارڈ کیے جائیں گے۔
اس واقعے میں جاں بحق ہونے والے چار شہریوں کی شناخت جگمت دورجے (خارنک)، رِنچن دادُل (ہنو)، ستانزن نامگئیل (ایگو)، اور تسوانگ تھرچن (سکوربوچن) کے طور پر ہوئی ہے۔










