امت نیوز ڈیسک //
سرینگر : میرواعظ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق نے لداخ کے معاملے میں حکومت ہند کی پالیسیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’’بدقسمتی ہے کہ حکومت ہند، لداخی عوام کی امنگوں کو پورا کرنے کے بجائے ان پر سختی برت کر معاملے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ امن زبردستی قائم نہیں کیا جا سکتا۔ امن اسی وقت پنپتا ہے جب عوام سے کیے گئے وعدے پورے ہوں اور محاذ آرائی کے بجائے مکالمے کو فروغ دیا جائے۔‘‘
بڈگام میں انجمن شرعی شیعان کے زیر اہتمام منعقدہ سیرت کانفرنس کے حاشیہ پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے میرواعظ عمر فاروق نے کہا: ’’افسوس ہے کہ مجھے اپنی قوم کے سامنے اپنا موقف پیش کرنے کا کوئی موقع نہیں دیا جا رہا۔ مسلسل تین جمعہ سے مجھے کسی وجہ کے بغیر نظر بند کیا گیا ہے۔ مجھے یہ بھی علم نہیں ہوتا کہ کب اور کیوں دوبارہ پابندیاں عائد کی جائیں گیں۔ حتیٰ کہ علماء کونسل کی پرامن مجالس کو بھی روکا جا رہا ہے۔‘‘
میرواعظ نے ’’دینی و سماجی تنظیموں پر پابندی، املاک کی ضبطی اور میڈیا اداروں کو ہراساں کرنے‘‘ کا ابھی الزام عائد کیا تاکہ یہ ادارے ’’ہمارا نقطہ نظر شائع نہ کریں جو ہمیشہ مثبت اور حل کی جانب رہنمائی کرنے والا رہے ہیں۔‘‘ میرواعظ نے اس امر پر انتہائی افسوسناک کا اظہار کیا۔
انہوں نے ایک بار پھر پر امن مذاکرات کی وکالت کرتے ہوئے کہا: ’’ہمارا ہمیشہ یہی موقف رہا ہے کہ عزت و وقار کے ساتھ پرامن بات چیت کی جائے۔ میری رائے میں حکومت ہند کو جموں و کشمیر پر اپنی پالیسی پر ازسرِنو غور کرنا چاہیے۔ طاقت کے استعمال اور بیانیے کو قابو میں رکھنے سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ پراثر اور تعمیری مکالمہ ہی پائیدار امن کے قیام کا بہتر اور انسانی راستہ ہے۔‘‘
اوقاف کے معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے میرواعظ نے حکومت کو خبردار کیا کہ ’’یہ بنیادی طور پر ایک مذہبی معاملہ ہے، قوم کو ہی یہ حق دیا جانا چاہیے کہ وہ اپنے دینی اداروں کا انتظام خود مختاری اور وقار کے ساتھ انجام دیں۔ دینی اداروں کے تقدس کا احترام ضروری ہے۔ مذہبی معاملات میں مداخلت اور دخل اندازی فوری طور پر ختم ہونی چاہیے، کیونکہ یہ عوام کے جذبات کو مجروح کرتی ہے اور غیر ضروری تنازع کو جنم دیتی ہے۔‘‘
میرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ دنیا کے کسی بھی خطے میں جہاں تصادم ہو، وہاں حقیقی امن صرف اسی وقت قائم ہو سکتا ہے جب اس تنازعہ کے شکار لوگوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔ فلسطین کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں غزہ کے مظلوموں کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ”ہم دل سے چاہتے ہیں کہ جنگ بندی پر عمل ہو اور فلسطینی عوام کی نسل کشی ختم کی جائے۔ لیکن صرف وقتی جنگ بندی کافی نہیں، بلکہ ایک حقیقی، منصفانہ اور پائیدار امن عمل کی ضرورت ہے۔ یہ چاہے مغرب کی طرف سے آئے یا اسلامی دنیا کی طرف سے، اس میںسب سے بڑھ کر فلسطینی عوام کی امنگوں کو شامل کرنا ہوگا۔ اپنی زمین، اپنے مستقبل، اپنی عزت و وقار اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے ناقابلِ تنسیخ حق کو کسی بھی بامعنی تصفیے کی بنیاد بنایا جانا چاہیے۔ بصورتِ دیگر امن صرف ایک خواب ہی رہے گا۔“
انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینی عوام کی دہائیوں پر محیط قربانیاں عالمی ضمیر اور بالخصوص عالمی قیادت کے لیے شرمندگی کا باعث ہیں، اور انصاف سے عاری کوئی بھی نام نہاد امن پالیسی دراصل تنازع کو طول دیتی ہے۔









