امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، یکم نومبر :جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ تاریخی "در بار موو” روایت کو ختم کرنا محض انتظامی فیصلہ نہیں تھا بلکہ یہ اقدام جموں و کشمیر کے عوام کے درمیان جذباتی دوری پیدا کرنے کا باعث بنا۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ انتظامیہ نے صدیوں پرانی اس روایت کو ختم کرکے ریاست کے دونوں خطوں کے درمیان رشتے کو کمزور کیا ہے۔
سرینگر میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا، "جن لوگوں نے در بار موو کو ختم کیا، انہوں نے جموں و کشمیر کو جذباتی طور پر تقسیم کر دیا۔ یہ تاریخی عمل نہ صرف ایک روایت تھی بلکہ یہ جموں اور وادی کشمیر کے درمیان ایک مضبوط ربط کی علامت تھا۔”
در بار موو کی روایت 1872 میں مہاراجہ رنبیر سنگھ نے شروع کی تھی، جس کے تحت سرکار کے دفاتر موسم گرما میں سرینگر اور موسم سرما میں جموں منتقل ہوتے تھے۔ اس کا مقصد دونوں خطوں کے عوام کے لیے حکومت کی آسان رسائی کو یقینی بنانا تھا، خاص طور پر شدید موسمی حالات کے پیش نظر۔
2021 میں اس روایت کو لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ نے ختم کر دیا تھا، جس کی وجہ سالانہ اخراجات میں کمی اور ای-آفس سسٹم کو فروغ دینا بتائی گئی تھی، تاہم وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس فیصلے کو "غلط سمت میں اٹھایا گیا قدم” قرار دیا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ ان کی کابینہ نے در بار موو کی بحالی کی منظوری دے دی ہے اور جلد ہی اس حوالے سے رسمی احکامات جاری کیے جائیں گے۔ "یہ خرچ نہیں بلکہ اتحاد میں سرمایہ کاری ہے۔ دربار موو ایک علامتی عمل نہیں تھا، بلکہ یہ جموں اور کشمیر دونوں کی نمائندگی کا ذریعہ تھا”، عمر عبداللہ نے مزید کہا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، دربار موو کی بحالی نیشنل کانفرنس کی جانب سے جموں خطے کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے اور علاقائی توازن کو فروغ دینے کی کوشش کا حصہ ہے، خاص طور پر آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر۔
عمر عبداللہ نے اس موقع پر ریاست کی مکمل ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو بھی دہرایا۔ انہوں نے کہا، "جموں و کشمیر کے عوام نہ صرف اپنی روایات بلکہ اپنے مکمل آئینی حقوق اور وقار کی بحالی کے بھی حقدار ہیں۔”
دربار موو کی بحالی کی کارروائیوں اور انتظامی تیاریوں سے متعلق مزید تفصیلات آئندہ ہفتوں میں سامنے آنے کی توقع ہے، جو یہ طے کریں گی کہ آیا یہ قدم واقعی علاقائی ہم آہنگی اور عوامی رسائی میں بہتری لائے گا یا نہیں۔









