جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور رکن پارلیمان آغا روح اللہ مہدی کی جانب سے پارٹی قیادت پر مسلسل تنقید اور باغیانہ تیور کے درمیان ان کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ اس وقت موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں آغا روح اللہ نے لکھا: ’’محض تجسس کے طور پر پوچھ رہا ہوں۔ اور یہ سوال جموں، کشمیر اور ہمارے اپنے لداخ کے لوگوں کے لیے ہے۔ آپ کی سوسائٹی میں مقامی ہیرو کون ہیں؟ ایسے لوگ جو صنف، مذہبی شناخت، سماجی یا معاشی پس منظر سے بالاتر ہو کر اپنے کردار، کام، دیانتداری، عزم اور دانائی سے آپ کو متاثر کرتے ہیں۔ وہ کسی بھی شعبۂ زندگی سے ہو سکتے ہیں، مگر وہی لوگ ہیں جنہیں آپ احترام اور عقیدت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔‘‘
سیاسی مبصرین کے مطابق، این سی قیادت پر وعدہ خلافی کے الزامات کے بعد آغا روح اللہ کا یہ پیغام ممکنہ طور پر ایک نئی سیاسی جماعت کے قیام کے اشارے سمجھا جا رہا ہے۔ادھر، جہاں اب تک عمر عبداللہ اس معاملے پر خاموش تھے، وہیں اب وہ بھی آغا روح اللہ کے خلاف کھل کر بولتے نظر آرہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے دونوں لیڈران کے درمیان لفظی جنگ بھی دیکھنے کو ملی۔سرینگر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران جب عمر عبداللہ سے آغا روح اللہ کے انتخابی مہم میں حصہ نہ لینے سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: ’’ان کا حصہ نہ لینا ان کی مرضی ہے، ہمارے پاس انتخابی مہم کے لیے لیڈران کی کوئی کمی نہیں۔‘‘
آغا روح اللہ کی حمایت میں این سی کے دوسرے رکنِ پارلیمان میاں الطاف بھی سامنے آئے ہیں۔ ایک تقریب کے دوران انہوں نے عمر عبداللہ کو سمارٹ میٹرز کے حوالے سے کھری کھری سناتے ہوئے کہا:’’میں عمر عبداللہ کو ایک خیر خواہ کے طور پر مشورہ دیتا ہوں کہ وہ بڑے عہدے پر بیٹھے ہیں، لہٰذا سوچ سمجھ کر بیان دیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ این سی کا انتخابی منشور شاید جلد بازی میں تیار کیا گیا کیونکہ وعدوں پر عمل درآمد کے امکانات پر اُس وقت سنجیدگی سے غور نہیں کیا گیا۔
عمر عبداللہ نے میاں الطاف کے بیان پر محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا: ’’میاں الطاف میرے لیے انتہائی قابلِ احترام ہیں۔ میں انہیں ایک سینئر ساتھی سمجھتا ہوں، اور ان کے مشوروں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔‘‘وہیں انہوں نے بتایا کہ انہوں نے خود میاں الطاف سے فون پر بات کی اور کہا کہ اگر کسی معاملے پر بات کرنی ہو تو میڈیا کے بجائے براہِ راست رابطہ کریں۔ تاہم، جب ان سے آغا روح اللہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا:’’کہاں میاں الطاف اور کہاں وہ؟ زمین و آسمان کا فرق ہے دونوں میں۔‘‘
آغا روح اللہ کا جوابی وار
اس پر ردعمل دیتے ہوئے آغا روح اللہ نے کہا کہ اصل لڑائی کسی شخصی مفاد کی نہیں بلکہ کشمیر کے وجود کی ہے۔انہوں نے پارٹی قیادت سے 2024ء کے اسمبلی انتخابات کے دوران کیے گئے وعدوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا:’’دفعہ 370 کی بحالی اور پانچ برس میں ایک لاکھ نوکریوں کی فراہمی کہاں گئی؟ ہمیں 20 ہزار نوکریوں کا پتہ بتائیں جو ایک سال میں دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ہزاروں نوجوان بغیر مقدمے کے جیلوں میں بند ہیں، کیا کسی کو ان کا پتہ ہے؟‘‘
آغا روح اللہ کے سخت مؤقف کے بعد این سی کے کئی رہنما ان کے خلاف میدان میں اتر آئے ہیں۔عبدالمجید لارمی نے کہا:’’اگر روح اللہ سمجھتے ہیں کہ این سی نے کچھ نہیں کیا، تو وہ استعفیٰ دیں اور دوبارہ الیکشن لڑیں۔‘‘
سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق، آغا روح اللہ کے ساتھ میاں الطاف کی غیر اعلانیہ قربت این سی کے لیے تشویش کا باعث بن رہی ہے۔
میاں الطاف جہاں گاندربل اور پونچھ/راجوری میں اثر رکھتے ہیں، وہیں آغا روح اللہ کا اثر بڈگام اور خاص طور پر شیعہ برادری میں نمایاں ہے۔پارلیمنٹ میں روح اللہ کی تقاریر اور این سی قیادت کے خلاف وعدہ خلافی کے الزامات نے نوجوانوں میں ان کی مقبولیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
سیاسی مستقبل اور ممکنہ امتحان
تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ آغا روح اللہ کا اب این سی کے پلیٹ فارم پر واپسی ممکن نظر نہیں آتی۔بعض کے مطابق، عمر عبداللہ آغا روح اللہ کی بڑھتی مقبولیت سے ناخوش تھے، اور پارٹی قیادت بھی انہیں الوداع کہنے میں ہی عافیت سمجھتی تھی۔اب دیکھنا یہ ہے کہ اگر آغا روح اللہ این سی چھوڑتے ہیں تو کیا وہ اکیلے جائیں گے یا نئے اور بھی کسی کو ساتھ لیں گے؟
دوسری جانب، بڈگام کے ضمنی انتخابات دونوں(عمر عبداللہ اور آغا روح اللہ )کے لیے ایک بڑا سیاسی امتحان اور عوامی مینڈیٹ ثابت ہوں گے۔










