امت نیوز ڈیسک //
دہلی ہائی کورٹ نے جمعہ کو بارہمولہ کے رکن پارلیمنٹ انجینئر رشید کی درخواست پر تقسیم شدہ فیصلہ سنایا ہے یعنی دو ججوں کی بنچ میں ایک کا فیصلہ کچھ اور ہے جبکہ دوسرے کا کچھ اور ۔انجینئر رشید تہاڑ جیل میں بند ہیں اور وہ پارلیمنٹ کی کارروائی کے دوران حکومت سے سفر کے اخراجات برداشت کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
ان کی عرضی پر سماعت کے بعد جسٹس انوپ بھمبھانی نے کہا کہ حکومت اخراجات برداشت کرے، جبکہ جسٹس ویویک چودھری نے کہا کہ حکومت کی یہ ذمہ داری نہیں ہے۔اب معاملہ چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے کے سامنے جائے گا۔بتادیں کہ رشید 2019 سے یو اے پی اے کے تحت ملی ٹینسی فنڈنگ کیس میں جیل میں ہیں۔
2024 میں انہوں نے عمر عبداللہ کو دو لاکھ سے زائد ووٹوں سے شکست دی۔ٹرائل کورٹ نے پارلیمنٹ جانے کی اجازت دی لیکن اخراجات خود برداشت کرنے کا حکم دیا، جو 12 دنوں کے لیے 17 لاکھ روپے بنتے ہیں۔
رشید نے اس کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی۔اور آج ہائی کورٹ نے دو الگ الگ فیصلہ سنا دیا ،اب معاملہ چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے دیکھیں گے اور وہ کوئی ایک فیصلہ کریں گے۔









