امت نیوز ڈیسک //
فریدآباد، 12 نومبر: ہریانہ کی الفلاح یونیورسٹی نے دہلی کے لال قلعہ کے قریب ہونے والے المناک دھماکے پر گہرے صدمے اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے میں کسی بھی ادارہ جاتی ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی ہے۔
یونیورسٹی کی جانب سے یہ باضابطہ بیان اس وقت جاری کیا گیا جب میڈیا رپورٹس میں یہ خبر سامنے آئی کہ دو ڈاکٹروں کو، جو یونیورسٹی سے منسلک ہیں، تحقیقات کرنے والے اداروں نے اس کیس کے سلسلے میں حراست میں لیا ہے۔
وائس چانسلر پروفیسر (ڈاکٹر) بھوپندر کور آنند نے اپنے دستخط شدہ بیان میں کہا کہ یونیورسٹی "اس افسوسناک واقعے پر گہرے رنج و غم میں مبتلا ہے” اور متاثرین کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کرتی ہے۔ بیان میں کہا گیا: "ہماری دعائیں اور نیک تمنائیں ان تمام بے گناہ افراد کے ساتھ ہیں جو اس افسوسناک واقعے سے متاثر ہوئے۔”
ڈاکٹر آنند نے یونیورسٹی کا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا: "یونیورسٹی کا مذکورہ افراد سے ان کی ملازمت کے علاوہ کسی بھی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہم تفتیشی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں تاکہ ایک منصفانہ اور شفاف تحقیقات یقینی بنائی جا سکے۔”
بیان میں مزید کہا گیا کہ "کچھ آن لائن پلیٹ فارمز” گمراہ کن اور توہین آمیز مواد پھیلا رہے ہیں جو یونیورسٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔ وائس چانسلر نے واضح الفاظ میں کہا: "ہم ان تمام بے بنیاد الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ یونیورسٹی میں تمام لیبارٹری سرگرمیاں "محفوظ، قانونی اور اخلاقی اصولوں کے مطابق، متعلقہ اداروں کے ضوابط کی روشنی میں” انجام دی جاتی ہیں۔
ڈاکٹر آنند نے کہا: "ایک ذمہ دار تعلیمی ادارے کے طور پر ہم ملک کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس کی وحدت، امن اور سلامتی کے لیے اپنی غیر متزلزل وابستگی کا اعادہ کرتے ہیں۔”
یونیورسٹی نے میڈیا اور عوام سے اپیل کی کہ وہ ادارے سے متعلق کسی بھی خبر یا بیان دینے سے پہلے حقائق کی تصدیق ضرور کریں۔ ساتھ ہی کہا گیا کہ یونیورسٹی میں تعلیمی سرگرمیاں "پُرامن، معمول کے مطابق اور نظم و ضبط کے ساتھ” جاری ہیں۔(کے این ٹی)








