امت نیوز ڈیسک //
دہلی کار بم دھماکہ کے بعد وادی بھر میں ہائی الرٹ جاری ہے۔ پولیس و سکیورٹی فورسز کی جانب سے چھاپہ مار کاروائیاں، قومی شاہراہوں پر تلاشی اور مشکوک افراد کو حراست میں لینے کا سلسلہ جاری ہے۔
اسی سلسلہ کے تحت جموں کشمیر پولیس نے جنوبی کشمیر کے کولگام ضلع میں کالعدم تنظیم جماعتِ اسلامی کے خلاف ایک بڑی کارروائی انجام دیتے ہوئے ضلع بھر میں 200 سے زائد مقامات پر چھاپے مارے۔ یہ چھاپے جماعتِ اسلامی کے ارکان اور ان کے قریبی ساتھیوں کے گھروں اور دیگر مقامات پر مارے گئے ہیں۔
چھاپہ مار دیگر کارروائیوں کے دوران تقریباً 500 افراد سے پوچھ تاچھ
پولیس ترجمان کے مطابق گزشتہ چار دنوں کے دوران ضلع کے مختلف علاقوں میں 400 سے زیادہ محاصرہ اور تلاشی انجام دی گئ، جو اوور گراؤنڈ ورکرز، جے کے این او پی ایس ، ان مقامات پر جہاں ماضی میں جھڑپیں ہوئیں اور سرگرم یا ہلاک دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر کی گئیں۔
ان کارروائیوں کے دوران تقریباً 500 افراد سے پوچھ گچھ کی گئی جو جے کے این او پی ایس اور دیگر کالعدم تنظیموں سے وابستہ تھے، جن میں سے کئی کو پابند ضمانت کیا گیا اور بعض کو انسدادِ تخریب کاری قوانین کے تحت ضلع جیل مٹن، اننت ناگ منتقل کیا گیا۔
مجرمانہ مواد قبضے میں لیا گیا
چھاپوں کے دوران پولیس نے قابلِ اعتراض مواد اور ڈیجیٹل آلات ضبط کیے، جب کہ متعدد جماعتِ اسلامی ارکان سے پوچھ گچھ کی گئی …
سوپور میں جماعت اسلامی کے نیٹ ورک کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن؛ 30 سے زائد مقامات پر چھاپے مارے گئے، مجرمانہ مواد قبضے میں لے لیا گیا۔
ضلع بارہمولہ کے سوپور میں بڑی کارروائی
قبل ازیں کی خبر کے مطابق شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے سوپور میں ایک بڑی مربوط کارروائی میں، سوپور پولیس نے آج ضلع سوپور میں متعدد مقامات پر تلاشی کارروائیوں کا ایک سلسلہ چلایا، جس میں غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ کے تحت ممنوعہ کالعدم تنظیم جماعت اسلامی سے منسلک افراد اور احاطے کو نشانہ بنایا گیا۔
ضلع بھر میں انسداد ملی ٹینسی اور علیحدگی پسند ماحولیاتی نظام کی کارروائی میں، سوپور، زینگیر اور رفیع آباد علاقوں میں دیگر سکیورٹی فورسز کی مدد سے 25 سے زیادہ مقامات پر بیک وقت چھاپے مارے گئے۔ تلاشیاں معتبر انٹیلی جنس معلومات پر مبنی تھیں جو جی ای آئی سے منسلک عناصر کی جانب سے مختلف محاذوں کے تحت اپنی سرگرمیوں کو بحال کرنے کی کوششوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔
دستاویزات، ڈیجیٹل گیجٹس اور پرنٹ شدہ مواد برآمد
آپریشنز کے دوران، ایک قابل ذکر مقدار میں مجرمانہ مواد، بشمول دستاویزات، ڈیجیٹل گیجٹس اور ممنوعہ تنظیم سے تعلق رکھنے والا پرنٹ شدہ مواد، برآمد کیا گیا اور تفصیلی جانچ پڑتال کے لیے ضبط کیا گیا۔ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا پتہ لگانے کے لیے متعدد افراد سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
سوپور پولیس نے اس بات کی تصدیق کی کہ اس طرح کی کارروائیاں احتیاطی اور انٹیلی جنس پر مبنی ہوتی ہیں، جن کا مقصد امن کی حفاظت کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ کسی بھی تنظیم یا فرد کو مقامی آبادی کا استحصال کرنے یا موجودہ سکیورٹی ماحول کو خراب کرنے کی اجازت نہ ہو۔
سوپور پولیس ضلع بھر میں دیرپا امن، استحکام اور سلامتی کو یقینی بناتے ہوئے کالعدم تنظیموں اور ملی ٹینٹ نیٹ ورکس سے منسلک تمام عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کرتی ہے۔
ضلع شوپیان میں مختلف مقامات پر بڑے پیمانے پر تلاشی
جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان میں آج پولیس نے مختلف مقامات پر بڑے پیمانے پر تلاشی مہم چلائی۔ پولیس ذرائع کے مطابق یہ کارروائیاں مختلف جماعتِ اسلامی کارکنان کے رہائشی مقامات پر انجام دی گئیں۔ تفصیلات کے مطابق، جن رہائش گاہوں پر چھاپے مارے گئے اُن میں ڈاکٹر حمید فیاض ساکن نادی گام شوپیان اور محمد یوسف فلاحی ساکن چتراگام شوپیان کے رہائشی مکان شامل ہیں۔
پولیس نے بتایا کہ یہ کارروائیاں بعض حساس انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کی گئیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق، ضلع کے مختلف علاقوں میں چھاپے ایک ساتھ شروع کیے گئے تاکہ کسی بھی ممکنہ سرگرمی کو روکا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ "یہ کارروائیاں انسدادِ ملی ٹینسی کے دائرے میں کی جا رہی ہیں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
ملک بھر میں ہائی الرٹ پر سکیورٹی ادارے
واضح رہے کہ دو کچھ روز قبل دہلی کے لال قلعہ کے قریب کار بم دھماکے کے بعد، ملک بھر میں سکیورٹی ادارے ہائی الرٹ پر ہیں۔ اس واقعے کے بعد کشمیر کے کئی اضلاع میں بھی پولیس اور دیگر سکیورٹی فورسز نے چھاپے مارے ہیں۔









