امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 14 نومبر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے جمعہ کو کہا کہ اگرچہ بڈگام ضمنی انتخابات میں پارٹی کی جیت خوشی کا موقع ہے، لیکن حالیہ دہلی سانحے—جس میں کئی جانیں ضائع ہوئیں اور پورا ملک سوگ میں ڈوب گیا—نے ان خوشیوں کو مدھم کر دیا ہے۔
بڈگام کے دورے کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے حلقے کے عوام کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے پی ڈی پی اور آغا منتظر صاحب پر اعتماد کیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اور اس کے "50 ایم ایل ایز” کی جانب سے نظرانداز کیے جانے کے باوجود عوام نے پارٹی پر بھروسہ کیا۔
محبوبہ مفتی نے نو منتخب نمائندے کے لیے دعا کی کہ اللہ انہیں حوصلہ اور طاقت عطا کرے۔ انہوں نے کہا کہ آغا منتظر ایک تعلیم یافتہ نمائندہ ہیں جن کے “دروازے ہمیشہ عوام کے لیے کھلے رہیں گے” اور جو “دل و جان سے عوام کی خدمت کریں گے”۔
تاہم پی ڈی پی صدر نے زور دے کر کہا کہ دہلی کا واقعہ وادی پر سایہ ڈال چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے اثرات کشمیر میں شدید طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں، جہاں بڑے پیمانے پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ پی ڈی پی اُن لوگوں کے خلاف کارروائی کی مخالف نہیں جو واقعی ملوث ہوں، لیکن گرفتاریوں اور کریک ڈاؤن کے موجودہ ماحول نے عام شہریوں میں خوف پیدا کر دیا ہے۔
انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے اس بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ “قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا” اور “سخت کارروائی ہوگی”۔ محبوبہ نے کہا کہ پی ڈی پی بھی سخت کارروائی کی حامی ہے، لیکن اقدامات قانونی دائرے میں ہونے چاہئیں۔ انہوں نے بزرگ والدین کے گھروں کو گرانے اور دوستوں و جاننے والوں کی بلاجواز گرفتاریوں کو “غیر ضروری، غیر قانونی اور غیر منصفانہ” قرار دیا۔










