جموں و کشمیر کی دو اہم اسمبلی نشستوں نگروٹہ اور بڈگام کے لیے ضمنی انتخابات 11 نومبر کو پُرامن طریقے سے منعقد ہوئے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق، نگروٹہ میں 74.82 فیصد جبکہ بڈگام میں 50.01 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی۔ گزشتہ برس بڈگام میں 52 فیصد اور نگروٹہ میں 77 فیصد ووٹنگ ہوئی تھی، یعنی رواں برس دونوں نشستوں پر ووٹنگ کی شرح میں معمولی کمی دیکھنے کو ملی۔
بڈگام حلقے میں ایک لاکھ چھبیس ہزار رائے دہندگان میں سے 63 ہزار ووٹروں نے اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کیا، جبکہ نگروٹہ میں قریب 98 ہزار ووٹروں میں سے 72 ہزار نے ووٹ ڈالے۔
بڈگام نشست: نیشنل کانفرنس پہلی بار مشکل میں ؟
بڈگام سیٹ پر اس بار نیشنل کانفرنس کو خاصے چیلنج کا سامنا ہے۔ ایک جانب جہاں سرکار کے ایک سال مکمل ہو چکے ہیں، وہیں رکن پارلیمان آغا روح اللہ نے نہ صرف انتخابی مہم میں حصہ نہیں لیا بلکہ انہوں نے ووٹ بھی نہیں ڈالا۔ ووٹنگ سے قبل ہی وہ جرمنی کے دورے پر روانہ ہو گئے تھے۔
عوامی سطح پر عمر عبداللہ کے تئیں ناراضگی پائی جا رہی ہے، کیونکہ گزشتہ انتخابات میں کئے گئے وعدے تاحال پورے نہیں ہوئے۔ اسی ناراضگی کے ساتھ آغا روح اللہ کی انتخابی مہم میں غیر حاضری این سی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
مقامی جانکاروں کے مطابق، اگرچہ آغا روح اللہ نے باضابطہ طور پر انتخابات سے دوری اختیار کی، تاہم انہوں نے اپنے قریبی حمایتیوں کو پی ڈی پی کے امیدوار آغا سید منتظر کے حق میں ووٹ ڈالنے کی ترغیب دی ہے۔ اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوئیں تو این سی کے امیدوار آغا محمود کو اس سے واضح نقصان پہنچ سکتا ہے۔
مقامی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس مرتبہ سنی ووٹروں نے حقِ رائے دہی میں کم دلچسپی دکھائی ہے۔ بڈگام کے ایک لاکھ چھبیس ہزار ووٹروں میں سے تقریباً 83 ہزار سنی ہیں، جن میں سے صرف 33 ہزار کے قریب نے ووٹ ڈالا۔ یہ ووٹ آغا محمود، آغا منتظر، نذیر احمد خان اور منتظر محی الدین کے درمیان تقسیم ہوئے۔
دوسری طرف، شیعہ ووٹرز کی تعداد تقریباً 43 ہزار ہے جن میں سے تقریباً 30 ہزار نے ووٹ ڈالے۔ جانکاروں کا ماننا ہے کہ اسی طبقے کے ووٹ جیت کا فیصلہ کریں گے،جس امیدوار کو زیادہ شیعہ ووٹ ملے گا، غالب امکان ہے کہ وہی فاتح ہوگا۔
17 امیدواروں میں سے بڈگام نشست پر اے آئی پی کے نذیر احمد خان اور آزاد امیدوار منتظر محی الدین بھی امیدوار ہیں۔ اگرچہ ان کی جیت کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں، تاہم یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ وہ کتنے ووٹ حاصل کرتے ہیں، اور کیا ان کے ووٹ کسی بڑے امیدوار کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
گزشتہ انتخابات میں عمر عبداللہ اور آغا منتظر کے درمیان تقریباً 18 ہزار ووٹوں کا فرق تھا۔عمر عبداللہ نے 36 ہزار جبکہ آغا منتظر نے 17 ہزار ووٹ حاصل کیے تھے۔ 1962 سے لے کر اب تک (1972 کے علاوہ) یہ نشست ہمیشہ نیشنل کانفرنس کے پاس رہی ہے، لیکن اس بار پہلی مرتبہ این سی کی پوزیشن کمزور دکھائی دے رہی ہے۔
نگروٹہ نشست: تکونی مقابلہ
نگروٹہ نشست اُس وقت خالی ہوئی جب بھاجپا کے ایم ایل اے دیویندر سنگھ رانا انتخابی نتائج کے چند ہفتے بعد علالت کے باعث انتقال کر گئے۔ اس نشست پر ان کی بیٹی دیویانی رانا مضبوط امیدوار سمجھی جا رہی ہیں۔
گزشتہ انتخابات میں بھاجپا کے دیویندر سنگھ رانا نے کل ڈالے گئے 74 ہزار ووٹوں میں سے 48 ہزار ووٹ حاصل کیے، جبکہ دوسرے نمبر پر آنے والے این سی امیدوار جوگیندر سنگھ کو صرف 18 ہزار ووٹ ملے۔
یہ نشست 1996 میں تشکیل دی گئی تھی۔ 1996 میں این سی نے کامیابی حاصل کی، بعد کے دو انتخابات میں بھاجپا نے جیت درج کی، 2014 میں دوبارہ این سی نے بازی ماری، جبکہ 2024 میں بھاجپا نے پھر سے کامیابی حاصل کی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ 2014 میں رانا این سی کے امیدوار تھے، جبکہ 2024 میں وہ بھاجپا کے ٹکٹ پر میدان میں تھے۔
اس نشست پر دس امیدوار میدان میں ہیں، جن میں دوسری اہم امیدوار این سی کی شمیم بیگم ہیں، جو ڈی ڈی سی ممبر بھی ہیں۔ کانگریس کے انتخابات میں حصہ نہ لینے کے بعد شمیم بیگم کو این سی کا مینڈیٹ دیا گیا۔
تیسرے اہم امیدوار جموں و کشمیر پینتھرس پارٹی (انڈیا) کے چیئرمین ہرش دیو سنگھ ہیں، جو رام نگر سے 1996 سے مسلسل تین بار کامیاب ہو کر اسمبلی رکن رہے ہیں اور وہ سابقہ ریاست کے وزیر تعلیم بھی رہ چکے ہیں۔ گزشتہ الیکشن میں انہیں چنینی سیٹ پر اپنے ہی کزن بلونت سنگھ منکوٹیہ نے 15 ہزار ووٹوں کے فرق سے شکست دی تھی۔
بلونت سنگھ منکوٹیہ، پینتھرس پارٹی کے بانی آنجہانی بھیم سنگھ کے بھتیجے ہیں۔ انہوں نے ستمبر 2022 میں بھاجپا میں شمولیت اختیار کی تھی۔ منکوٹیہ نے پہلے اپریل 2022 میں عام آدمی پارٹی جوائن کی، لیکن چند ماہ بعد اسے چھوڑ دیا۔
اسی طرح ہرش دیو سنگھ نے بھی بھیم سنگھ کے انتقال سے چند ہفتے قبل عام آدمی پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی، تاہم ستمبر میں انہوں نے پارٹی سے علیحدگی اختیار کر کے دوبارہ پینتھرس پارٹی کو فعال کیا۔اب 14 نومبر کو پتہ چلے گا کہ کیا دیویانی رانا اپنے والد کی کرسی سنبھالیں گی یا کوئی نیا امیدوار بازی مارے گا۔










