امت نیوز ڈیسک //
سرینگر :جموں وکشمیر اپنی پارٹی کے صدر اور سابق وزیر سید محمد الطاف بخاری نے دلی کے لال قلعہ دھماکے میں ملوث افراد کو سزا دئے جانے کی وکالت کرتے ہوئے اس بیچ کشمیریوں کے تحفظ کو یقینی بنائے جانے کا بھی مطالبہ کیا۔ بخاری کے مطابق 10نومبر کو ہوئے دھماکے کے تناظر میں ضروری ہے کہ اس واقعے میں ملوث تمام مجرموں اور ان کے معاونین کو گرفتار کر کے سخت سے سخت سزا سی جائے۔ لیکن اسی کے ساتھ ہی یہ بھی اتنا ہی اہم ہے ملک کے کسی بھی حصے میں موجود ہر ایک کشمیری کو کسی بھی قسم کی ہراسانی، دھمکی یا امتیازی سلوک سے محفوظ رکھا جائے۔
انہوں نے سماجی رابطہ گاہ ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں لکھا: ’’حکومت ہند پر لازم ہے کہ وہ مختلف ریاستوں میں کشمیری طلباء اور تاجروں کو درپیش پریشانیوں اور مسائل کو ختم کرنے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات اٹھائے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’میڈیا پر بھی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ذمہ داری کے ساتھ رپورٹنگ کرے اور نفرت انگیزی کو ہوا دینے سے گریز کرے۔‘‘
سید الطاف بخاری نے کہا کہ دشمن عناصر کشمیریوں اور ملک کے دیگر حصوں میں آباد شہریوں کے درمیان عدم اعتماد کی خلیج کو بڑھانا چاہتے ہیں۔ بخاری کے مطابق ’’ایسی صورتحال پر خاموشی کشمیریوں کے خلاف کسی بھی قسم کی دشمنی، بدگمانی یا ہراسانی ان جیسے دشمن عناصر کے عزائم کو تقویت دیتی ہے۔ ہمیں ہر حال میں ایسی صورتحال پر قابو پانے کے لئے فوری اقدامات کرنے ہوں گے۔‘‘ انہوں ’’امن، اتحاد اور باہمی احترام کو مضبوط‘‘ کرنے کی تلقین کی تاکہ ’’دشمنوں کا ایجنڈا ناکام ہو۔‘‘









