امت نیوز ڈیسک //
جموں: بی جے پی کے قانون سازوں کے ایک وفد نے ہفتہ کی دیر رات لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے ملاقات کی اور ضلع ریاسی میں شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلنس کے ذریعہ جاری کردہ پہلی داخلہ فہرست کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔
جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سنیل شرما کی قیادت میں وفد نے سلیکشن لسٹ پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ داخل ہونے والے طلبہ کی اکثریت کا تعلق ایک ہی کمیونٹی سے ہے۔
سنیل شرما نے داخلہ فہرست پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ منتخب ہونے والے زیادہ تر طلبہ ’’ایک ہی کمیونٹی‘‘ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ داخلوں میں ایسے طلبہ کو ترجیح دی جانی چاہیے جن کا ’’ماتا ویشنو دیوی پر عقیدہ‘‘ ہو۔
راج بھون کے ایک بیان کے مطابق میٹنگ کے دوران شرما کے ساتھ ایم ایل اے شام لال شرما، سرجیت سنگھ سلاتھیا، دیویندر کمار منیال اور رنبیر سنگھ پٹھانیا بھی تھے۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سنیل شرما نے کہا، ’’ہم نے ایس ایم وی ڈی آئی ایم ای کی پہلی بیچ کے داخلوں کے حوالے سے ایک نہایت اہم مسئلہ اٹھایا ہے، جہاں زیادہ تر نشستیں ایک مخصوص کمیونٹی کے طلبہ کو دی گئی ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ پارٹی کا اعتراض اس دلیل پر مبنی تھا کہ انسٹی ٹیوٹ عقیدت مندوں کے مذہبی عقیدے سے جڑا ہوا ہے اور شرائن بورڈ کو ملنے والے عطیات مذہبی اور ثقافتی مقاصد کے لیے ہوتے ہیں۔
شرما نے کہا، ہماری مخالفت اس دلیل پر مبنی ہے کہ یہ مقام خالصتاً مذہبی نوعیت کا ہے اور ملک بھر کے کروڑوں عقیدت مندوں کی عقیدت اور وفاداری سے جڑا ہوا ہے جو اس امید کے ساتھ عطیہ کرتے ہیں کہ یہ رقم مذہبی اور ثقافتی فروغ کے لیے استعمال کی جائے گی۔
اس سال ایس ایم وی ڈی آئی ایم ای میں ایم بی بی ایس کی 50 نشستیں منظور کی گئی ہیں، جن میں سے 41 نشستیں ایک مخصوص کمیونٹی کے طلبہ کو ملنے پر تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ کئی دائیں بازو تنظیموں نے اس عمل پر اعتراض کرتے ہوئے کالج کو ’’اقلیتی ادارہ‘‘ قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ داخلے مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر کیے گئے ہیں، اور چونکہ ادارے کو اقلیتی درجہ حاصل نہیں ہے، اس لیے مذہبی بنیادوں پر کوئی ریزرویشن نہیں دیا جا سکتا۔
شرما نے کہا کہ پارٹی داخلہ کے عمل کی مخالفت کرتی ہے اور چاہتی ہے کہ شرائن بورڈ سیٹیں دیتے وقت "ماتا ویشنو دیوی میں عقیدہ” پر غور کرے، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ موجودہ انتخاب مقامی باشندوں کے لیے "قابل قبول نہیں” ہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا وفد نے انسٹی ٹیوٹ کے لیے اقلیتی درجہ کا مطالبہ کیا، تو انہوں نے کہا کہ وہ اس طرح کے اقدام کے حق میں نہیں ہیں لیکن وہ چاہتے ہیں کہ داخلہ ان لوگوں تک محدود ہو جو "ویشنو دیوی پر یقین رکھتے ہیں”۔
سنیل شرما نے بتایا کہ لیفٹیننٹ گورنر نے وفد کو یقین دلایا ہے کہ معاملے کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور مناسب فیصلہ کیا جائے گا۔








