امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 29 نومبر : سرینگر ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے ڈاؤن ٹاؤن سرینگر کے متعدد علاقوں میں قائم 200 سے زائد دکانوں کی فہرست تیار کی ہے، جنہیں اتھارٹی کے مطابق غیر قانونی طور پر تعمیر کیا گیا ہے۔
باخبر ذرائع نے کشمیر نیوز ٹرسٹ کو بتایا کہ اس فہرست میں پرانے شہر کے مختلف محلّوں میں واقع تجارتی ڈھانچوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور انہیں غیر مجاز تعمیرات یا تعمیراتی ضوابط کی خلاف ورزیوں کے طور پر درج کیا گیا ہے۔ داخلی جانچ پڑتال کے بعد تیار کی گئی یہ دستاویز ممکنہ کارروائی کے لیے پیش خیمہ سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم یہ واضح نہیں کہ اتھارٹی براہِ راست انہدامی کارروائی شروع کرے گی یا پہلے نوٹس جاری کرے گی، کیونکہ حالیہ دنوں میں اس طرح کی کارروائیوں کے خلاف سیاسی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔
یہ دکانیں شہر خاص کے متعدد علاقوں—بشمول نوہٹہ، خانیار، زینہ کدل، صفا کدل، حول، گوجوارہ، عیدگاہ، ریناواری، ملک آنگان، وانیار، صورہ، بُ چھ پورہ اور ملحقہ آبادیوں—میں واقع ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے گزشتہ روز راج بھون انتظامیہ اور اس کے نامزد افسران پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ منتخب حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر انہدامی کارروائیاں چلا رہے ہیں۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے دعویٰ کیا کہ بلڈوزر وزرا کی منظوری کے بغیر استعمال کیے جا رہے ہیں اور ان کارروائیوں کو "انتقامی اور سیاسی طور پر محرک” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ان کی حکومت غیر قانونی تجاوزات کی حمایت نہیں کرتی، لیکن سوال یہ ہے کہ صرف کچھ مخصوص لوگوں اور علاقوں کو ہی کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے بھی جموں اور وسطی کشمیر—بشمول گاندربل—میں انہدامی کارروائیوں پر شفافیت اور یکسانیت کی کمی پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔









