امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: جموں و کشمیر سے راجیہ سبھا کے تین نومنتخب ارکان جن کا تعلق حکمراں نیشنل کانفرنس سے ہے، کو آج نائب صدر اور ایوان بالا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے اپنے عہدے اور رازداری کا حلف دلایا۔
سجاد احمد کچلو، چودھری رمضان اور گروندر سنگھ اوبرائے کو آج پارلیمنٹ کا 20 روزہ سرمائی اجلاس شروع ہونے سے پہلے پارلیمنٹ میں حلف دلایا گیا۔
یہ پارلیمانی نشستیں 2021 سے خالی تھیں کیونکہ جموں و کشمیر میں اسمبلی نہ ہونے کی وجہ سے ان کا بالواسطہ انتخاب ممکن نہیں ہوا تھا تاہم 2024 میں اسمبلی بننے کے باوجود بھی الیکشن کمیشن نے نوٹیفکیشن جاری کرنے میں تاخیر سے کام لیا جسکی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔
کشتواڑ سے تعلق رکھنے والے جموں و کشمیر کے سابق وزیر داخلہ سجاد احمد کچلو نے اردو میں حلف لیا۔ سجاد کچلو، نیشنل کانفرنس کے اہم لیڈر ہیں۔ انہیں بھارتیہ جنتا پارٹی کی ایک خاتون امیدوار نے ووٹوں کے ایک معمولی فرق سے اسمبلی الیکشن میں شکست سے دوچار کیا تھا۔ حلف لینے والے دوسرے رکن پارلیمان گروندر سنگھ اوبرائے عرف شمی اوبرائے، تھے جنہوں نے پنجابی میں عہدے اور رازداری کا حلف لیا۔ اوبرائے این سی کے نائب صدر اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے قریبی دوست ہیں۔ انکے والد جموں و کشمیر کے کالعدم شدہ قانون ساز کونسل کے رکن اور شہر سرینگر کے میئر رہے ہیں۔
چودھری محمد رمضان حلف لینے والے تیسرے لیڈر رہے۔ رمضان کا تعلق شمالی کشمیر کے ہندوارہ حلقہ انتخاب سے ہے ۔ انہوں نے اسمبلی الیکشن میں پیپلز کانفرنس کے لیڈر سجاد غنی لون سے شکست کھائی۔ سجاد کچلو اور چودھری رمضان کو پارلیمنٹ میں بھیج کر نیشنل کانفرنس نے ان دو اہم لیڈروں کو سیاسی طور دوبارہ متحرک کیا ہے تاکہ آئندہ اسمبلی الیکشن میں انکی سیاسی ساکھ پارٹی کے فائدے میں استعمال ہوسکے۔
ان تینوں این سی لیڈروں نے نومبر میں ہونے والے متنازع راجیہ سبھا انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔ پیپلز کانفرنس نے اس الیکشن مین کسی کی حمایت نہیں کی جبکہ کانگرنس اور پی ڈی پی نے نیشنل کانفرنس کی مشروط حمایت کی۔ اگرچہ نیشنل کانفرنس کا دعویٰ تھا کہ وہ چار سیٹوں پر کامیابی ھاصل کرے گی لیکن بعض نامعلوم اراکین اسمبلی کی طرف سے کراس ووٹنگ کے بعد بی جے پی کے ست شرما، جو جموں و کشمیر میں پارٹی کے صدر ہیں، نے حیرت انگیز طور پر کامیابی حاصل کی ۔ ست شرما نے نومبر میں حلف لیا تھا۔
جموں و کشمیر کی نمائندگی چار سال بعد راجیہ سبھا میں کی جائے گی کیونکہ پی ڈی پی کے غلام نبی آزاد، میر فیاض اور نذیر احمد لاوے اور بی جے پی کے شمشیر سنگھ منہاس فروری 2021 میں ریٹائر ہو گئے تھے۔










