امت نیوز ڈیسک //
جموں، 2 دسمبر : سال 1989 میں اُس وقت کے مرکزی وزیرِ داخلہ مفتی محمد سعید کی بیٹی رُبیعہ سعید کے اغوا کے معاملے میں گرفتار شافع احمد شنگلو کو منگل کے روز جموں کی خصوصی CBI/TADA عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے مرکزی تفتیشی بیورو (CBI) کی جانب سے مانگی گئی حراست دینے سے انکار کر دیا۔ فیصلے کی تفصیلی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آ سکی ہیں۔
عدالت کے بعد شنگلو نے کہا: "میرا اس اغوا میں کوئی ہاتھ نہیں تھا، عدالت نے آج مجھے انصاف دیا ہے۔” ان کے وکیل، ایڈووکیٹ سہیل ڈار نے بتایا کہ چونکہ عدالت نے انہیں رہا کر دیا ہے، اس لیے اب ان کے خلاف کوئی مزید تفتیش نہیں ہوگی۔ تادا عدالت کے تیسرے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج مدن لال کے تفصیلی حکم کا انتظار ہے۔
شنگلو پر الزام تھا کہ وہ کالعدم جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ یاسین ملک کے قریبی ساتھی تھے اور تنظیم کے مالی معاملات سنبھالتے تھے۔ ان کے سر پر 10 لاکھ روپے کا انعام بھی مقرر تھا۔ CBI کے مطابق وہ ملک اور دیگر افراد کے ساتھ سازش میں شامل تھے۔ انہیں یکم دسمبر کو سری نگر کے نشاط علاقے میں ان کے گھر سے CBI اور جموں و کشمیر پولیس نے مشترکہ کارروائی میں گرفتار کیا تھا۔
رُبیعہ سعید کو 8 دسمبر 1989 کو لال ڈڈ اسپتال کے قریب سے اغوا کیا گیا تھا اور پانچ روز بعد اُس وقت کی وی پی سنگھ حکومت نے پانچ عسکریت پسندوں کی رہائی کے بدلے انہیں آزاد کرایا تھا۔ وہ اس وقت تمل ناڈو میں مقیم ہیں اور کیس میں استغاثہ کی اہم گواہ ہیں۔ انہوں نے پہلے بھی یاسین ملک اور دیگر چار ملزمان کی شناخت کی تھی۔









