امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 2 دسمبر: جموں و کشمیر حکومت نے ملازمت کے خواہش مند امیدواروں کو عمر میں رعایت دینے کی سمت ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے منگل کو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے اس تجویز کو منظور کر کے فائل کو حتمی منظوری کے لیے راج بھون ارسال کر دیا ہے۔
یہ انکشاف نیشنل کانفرنس کے رہنما اور قانون ساز تنویر صادق نے کیا۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ نے تصدیق کی ہے کہ فائل حکومتی سطح پر کلیئر ہو چکی ہے اور باضابطہ طور پر گورنر ہاؤس کو پہنچا دی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ کی منظوری کے بعد اب حتمی فیصلہ راج بھون کو کرنا ہے، جس کے بعد ایک باضابطہ سرکاری حکم نامہ جاری ہونے کی توقع ہے۔
اس پیش رفت کو جموں و کشمیر کے ہزاروں امیدواروں کے لیے ایک بڑی راحت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خصوصاً ان نوجوانوں کے لیے جنہوں نے گزشتہ کئی برسوں کے دوران بھرتیوں میں تاخیر کے سبب عمر کی بالائی حد عبور کر لی تھی۔
2019 کے بعد سے جموں و کشمیر میں بھرتی عمل مسلسل رکاوٹوں کا شکار رہا ہے، جن میں انتظامی تبدیلیاں، بھرتی ایجنسیوں کے قیام میں تاخیر، سروس قوانین میں تبدیلیاں اور طویل عدالتی کارروائیاں شامل ہیں۔ ان تمام رکاوٹوں کے باعث بے شمار امیدوار بغیر کسی موقع کے عمر کی حد سے باہر ہو گئے۔
گزشتہ دو برسوں میں عمر میں رعایت کا مطالبہ شدت اختیار کر گیا تھا، اور نوجوانوں کے گروہوں کے ساتھ ساتھ مختلف سیاسی جماعتوں نے بھی اس بات پر زور دیا تھا کہ امیدواروں کو اُن تاخیرات کی سزا نہیں ملنی چاہیے جو ان کے اختیار سے باہر تھیں۔ عمر عبداللہ کی حکومت نے بھی اقتدار سنبھالتے ہی نوجوانوں کی بے روزگاری اور بھرتی سے متعلق مشکلات کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا تھا۔ عمر میں رعایت کی اس تجویز کی منظوری اسی سمت میں پہلا بڑا قدم تصور کیا جا رہا ہے۔
اگر راج بھون نے بھی اس تجویز کو منظوری دے دی، تو عمر میں رعایت مختلف بھرتی زمروں پر یکساں طور پر نافذ ہوگی، جس سے ہزاروں ایسے امیدواروں کو فوری ریلیف ملے گا جو عمر کی حد پار کرنے کے باعث نااہل ہو چکے تھے۔ (کے این ٹی)










