امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 6 دسمبر : جموں و کشمیر کمبائنڈ کمپیٹیٹیو (پریلیم) امتحان 2025 کل 7 دسمبر کو اپنے سابقہ شیڈول کے مطابق منعقد ہوگا۔ جے کے پی ایس سی نے مسلسل گردش کرنے والی التوا کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے امتحان وقت پر لینے کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔
جے کے ڈی سی سے خصوصی گفتگو میں جے کے پی ایس سی کے چیئرمین ارون کمار چودھری نے واضح کیا کہ امتحان کو مؤخر کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے۔ انہوں نے تمام امیدواروں سے اپیل کی کہ وہ پہلے سے جاری کیے گئے ٹائم ٹیبل پر سختی سے عمل کریں۔
یہ یقین دہانی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امیدوار کئی ہفتوں سے غیر یقینی کی کیفیت میں مبتلا تھے، خصوصاً عمر میں نرمی (ایج ریلیکسیشن) کے معاملے پر سرکاری حکم نامہ تاخیر کا شکار ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ یہ تجویز، جس کی یقین دہانی جون میں دی گئی تھی، حال ہی میں وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے منظوری کے بعد لیفٹیننٹ گورنر (ایل جی) کے دفتر کو ارسال کی تھی، مگر جی اے ڈی کی جانب سے باضابطہ نوٹیفکیشن ابھی تک جاری نہیں ہوا، جس کے باعث زائد العمر ہزاروں امیدواروں میں بے چینی برقرار ہے۔
ہفتہ کو یہ معاملہ اس وقت سیاسی شکل اختیار کر گیا جب وزیراعلیٰ کے دفتر نے عوامی طور پر جے کے پی ایس سی سے امتحان ملتوی کرنے کی درخواست کی، یہ کہتے ہوئے کہ "عمر میں نرمی کے معاملے پر لوک بھون کی تاخیر نے غیر یقینی پیدا کر دی ہے۔” اس پر ایل جی آفس نے فوری ردعمل دیتے ہوئے وضاحت کی کہ مذکورہ فائل 2 دسمبر کو ہی محکمہ کو واپس بھیجی گئی تھی تاکہ یہ پوچھا جا سکے کہ "7 دسمبر کو امتحان میں ترمیم شدہ اہلیت شامل کرنا اتنے قلیل وقت میں ممکن بھی ہے یا نہیں۔” دفتر نے کہا کہ چار دن گزرنے کے باوجود متعلقہ محکمہ کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
اسی دوران این سی کے رکن پارلیمان آغا سید روح اللہ مہدی سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی مسلسل عمر میں نرمی کے حق میں آواز اٹھائی ہے، یہ کہتے ہوئے کہ سرکاری بھرتیوں میں طویل تاخیر نے بڑی تعداد میں نوجوانوں کو اہلّیت سے باہر کر دیا ہے۔
امیدواروں کے مختلف گروپوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری اور واضح تحریری فیصلہ جاری کرکے اس کشمکش کا خاتمہ کرے۔(کے ڈی سی)









