• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
جمعرات, جنوری ۲۲, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
گلوبل ورلڈ میں اپنے ہی کھو گئے

گلوبل ورلڈ میں اپنے ہی کھو گئے

وانی مشتاق /وانگام شوپیان

by امت ڈیسک
12/12/2025
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

موجودہ زمانے کے گلوبل ورلڈ میں ہر کوئی ترقی یافتہ و ٹیکنالوجی سے بھرے نظام زندگی سے اس طرح منسلک ہو گیا ہے کہ جس کے بغیر زندگی کا تصور کرنا محال ہے ۔زندگی کا ہر ایک حصہ ٹیکنالوجی سے منضبط ہوگیا ہے ۔قدیم زمانے سے اگر موازنہ کیا جایے تو موجودہ زمانے کا انسان ہر لحاظ سے زیادہ سہولت اور عیش و عشرت کا طلبگار بن گیا ہے ۔ٹیکنالوجی کا بڑھتا رجحان سماج کے کسی ایک طبقے تک محدود نہیں رہ گیا ہے بلکہ اس نے انسانی زندگی کے ہر ایک شعبے کو متاثر کیا ہوا ہے ۔موبایل اور سمارٹ فونز کی وجہ سے نہ صرف دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنوں یا پرایوں سے بات چیت کی جاسکتی ہے بلکہ ان سے روبرو شکل و صورت کے ساتھ ہم کلامی بھی کی جا سکتی ہے ۔ انٹرنیٹ کی وجہ سے تعلیم و تربیت گھر بیٹھے ہی حاصل کی جا سکتی ہے ۔ موجودہ وقت کا ترقی یافتہ انسان اس کرہ ارضی کا تقریباً ہر ایک ذریعہ استعمال کر رہا ہے ۔ سماجی رابط کی ویب سائٹس سے اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے چوبیسوں گھنٹہ رابطہ قایم کیے ہوے ہے ۔ دنیا کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار بنا کسی محنت کے کیا جا سکتا ہے ۔ لیکن اس کے بالمقابل جہاں ٹیکنالوجی کو آسانی و سہولیات بہم پہنچانے کا مضبوط آلہ تصور کیا جاتا ہے وہی اس کے غیر ضروری استعمال سے زندگی اجیرن بن گئی ہے ۔ ایک مشکل رفح کرنے سے دوسری مشکل جنم لیتی ہے ۔ رسمی طور اپنے قرابت داروں کا خیال کرنے کے بجائے اب اس کا حق ایک SMS یا phone call کرنے سے ہی ادا کیا جاتا ہے ۔ انٹرنیٹ سے بچے آن لائن کھیل اور تفریح کا کام کرنے کے عادی ہوگئے ہیں ۔ الغرض یہ کہ سماجی رابط اور جسمانی کثرت محض نام کی چیز رہ گئی ہے ۔ social media پر آن لائن تعلقات جوڑے جاتے ہیں جن کا نہ کوئی معنی ہوتا ہے نہ کوئی نتیجہ ، بلکہ بسااوقات بہت سی ذہنی بیماریوں کا باعث بن جاتے ہیں ۔

دنیا کے بدلتے حالات کے تناظر میں انسان کو بے شک اپ ٹو ڈیٹ رہنے کی ضرورت ہے لیکن اس کے لئے ایسے ذرائع کا استعمال کرنا جہاں انسان کو انفارمیشن کے بدلے میں دشمنی ، عداوت ، ذہنی تناؤ ، سماجی رابطے کا سکڑاو ، والدین سے دوری ، بہن بھائی سے لا تعلقی وغیرہ نصیب ہوجائے وہاں انسان کو سوچنا چاہئے کہ وہ کس سمت میں جا رہا ہے ۔ ایک نوجوان گھر میں اپنے والدین کے سامنے ظاہراً تو موجود ہوتا ہے لیکن اس کا دماغ کہیں اور سرگوشیاں کررہا ہوتا ہے ۔ اپنی ہی دنیا میں مگن وہ اپنے آپ سے ہی ہنستا کھیلتا ہے ۔ یہی حال ہماری باقی محفلوں کا ہے ۔ انسانوں کو انسانوں کے ساتھ بات کرنے کی دعوت دی جاتی ہے لیکن وہاں پر تو ہر کسی کے سر پر جیسے پرندے بیٹھے ہوتے ہیں ۔ایک دوست دوسرے دوست کی توجہ کا طالب ہوتا ہے لیکن دوسرا دوست سامنے بیٹھے انسان کو نظر انداز کرکے اپنی ہی دنیا میں مگن نظر آتا ہے ۔ انفارمیشن کے مارے وہ ہر کسی کا اسٹیٹس چیک کر رہا ہوتا ہے لیکن اپنی حقیقی زندگی کے بارے میں اسے جو انفارمیشن چاہیے تھی اس سے وہ بالکل ہی غافل نظر آتا ہے ۔ ماہرین نفسیات نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سوشل میڈیا سے انسان اپنے آپ کو خوش رکھنے یا انفارمیشن حاصل کرنے کے بجائے غم میں ہی لت پت ہو جاتا ہے ۔

مغربی ممالک میں آجکل ایسے سینکڑوں ذرائع ہیں جیسے کہ Councelling centers, therapy centres, social rehabilitation centres, support groups. جہاں کوئی تعلیم و تربیت تو حاصل نہیں کی جاتی بلکہ لوگوں سے فیس وصول کرکے آپس میں بات چیت کرنے کا انتظام رکھا جاتا ہے۔ انسان اپنی ہی زندگی میں کھوچکا ہے ، اسے دوسروں کا خیال ہی نہیں ہے ، وہ اپنی انفرادیت میں اتنا کھوگیا ہے جہاں اس سے نہ ہی اپنا آپ یاد ہے نہ ہی سماج اور سماجی حالات ۔ زندگی کو ٹیکنالوجی نے آسان سے آسان تر بنا دیا ہے لیکن یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ٹیکنالوجی کبھی انسان کی جگہ نہیں لے سکتی ۔ موجودہ دور کے ترقی یافتہ انسان نے اگرچہ ہر کسی کام کو ایک بٹن دبانے کے محور میں مقید کر رکھا ہے لیکن وہاں سے اسے کون کون سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس کا عکس آینہ اس وقت کی سوسائٹی ہے جہاں نہ اخوت ہے ،نہ ہی مخلصانہ دوستی اور نہ ہی صحت و سلامتی ۔ انسان سماجی حیوانیت سے دور نکل کر ایک مشین کی مانند ہوگیا ہے ۔۔۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

محبوبہ مفتی کا پورے بھارت میں 3.55 لاکھ وقف جائیدادوں کے ’غائب‘ ہونے پر اظہارِ تشویش

Next Post

جموں و کشمیر کے لئے یہ نقشہ فوری زلزلے کی پیش گوئی یا پھر ایک سائنسی تنبیہ؟

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

نسائی شاعری کا ارتقا

کزنز زندگی کے خاموش محافظ….

16/01/2026
ہماری معاشرت میں اقدار کا زوال

والدین کی قربانیوں کی کوئی انتہا نہیں

16/01/2026
احساس و ہمدردی سے عاری لوگ

داستانِ عہدِ رفتہ: جب مٹی سونا تھی….​چند یادیں بیتے دنوں کی

09/01/2026
ہماری معاشرت میں اقدار کا زوال

کشمیر کی سڑکیں موت کی آماجگاہ

09/01/2026
ہماری معاشرت میں اقدار کا زوال

ہماری معاشرت میں اقدار کا زوال

03/01/2026
حوصلہ شکنی کے بجاۓ حوصلہ افزائی کیجئے ہر شخص جینے کا حق رکھتا ہے۔۔۔!‎

والدین کے ساتھ بد سلوکی تربیت میں کمی یا فرمان برداری کا زوال۔۔۔۔۔!‎

03/01/2026
Next Post
جموں و کشمیر کے لئے یہ نقشہ فوری زلزلے کی پیش گوئی یا پھر ایک سائنسی تنبیہ؟

جموں و کشمیر کے لئے یہ نقشہ فوری زلزلے کی پیش گوئی یا پھر ایک سائنسی تنبیہ؟

اننت ناگ میں PRIYAGOLD Butter Delite بسکوٹس غیر محفوظ قرار — فروخت پر فوری پابندی

اننت ناگ میں PRIYAGOLD Butter Delite بسکوٹس غیر محفوظ قرار — فروخت پر فوری پابندی

سرحدوں پر چوکسی، 607 اہلکاروں کی تقرری کو منظوری

پونچھ میں دراندازی کی کوشش ناکام — سیکیورٹی فورسز نے 3 دراندازوں کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا

اگر نارملسی ہے تو جامع مسجد عید پر بند کیوں رکھی گئی ؟ میرواعظ

دہائیوں پرانے کیسز میں تازہ گرفتاریوں سے عوامی بےچینی: میرواعظ عمر فاروق

این ایچ پی سی جموں و کشمیر کی صلاحیت کو 3014 میگاواٹ تک بڑھانے کے لیے 27,945 کروڑ روپے کے 4 پاور پروجیکٹوں کو انجام دے رہا ہے: مرکز

این ایچ پی سی جموں و کشمیر کی صلاحیت کو 3014 میگاواٹ تک بڑھانے کے لیے 27,945 کروڑ روپے کے 4 پاور پروجیکٹوں کو انجام دے رہا ہے: مرکز

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »