امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 12 دسمبر: پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کو ملک بھر میں تین لاکھ پچپن ہزار سے زائد وقف جائیدادوں کے ریکارڈ سے غائب ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے ایک پوسٹ میں، جس کے ساتھ ایک تصویر بھی شیئر کی گئی ہے، بتایا کہ یومید (UMEED) ڈیٹا بیس کے متعارف ہونے کے بعد قومی ریکارڈ میں وقف املاک کی تعداد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔
محبوبہ مفتی کے مطابق تازہ دستیاب اعداد و شمار میں مختلف ریاستوں میں وقف املاک کی انٹریز میں بڑے خلاء دیکھے گئے ہیں، جن میں جموں و کشمیر کی 7240 جائیدادوں کا غائب ہونا بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ ریاستوں میں تو دسیوں ہزار ریکارڈ شدہ املاک کم ہو گئی ہیں، جو شفافیت اور وقف جائیدادوں کے تحفظ پر سنگین سوالات کھڑے کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسلمان برادری پہلے ہی تشدد، انہدامات اور حقوق کی محرومی کا سامنا کر رہی ہے، ایسے میں وقف املاک کا یوں ’’غائب‘‘ ہونا مزید تشویش ناک ہے۔ محبوبہ کے مطابق یہ رجحان برادری کے لیے ایک اور دھچکہ محسوس ہوتا ہے اور یہ سوال پیدا کرتا ہے کہ یہ عمل آخر کہاں تک جائے گا؟
محبوبہ مفتی کی جانب سے شیئر کیے گئے ڈیٹا کے مطابق دسمبر 2024 میں ملک بھر میں 8,72,352 وقف جائیدادیں درج تھیں، جو دسمبر 2025 میں گھٹ کر 5,17,040 رہ گئی ہیں — یعنی مجموعی طور پر ایک بڑی اور حیران کن کمی۔ [کے این ٹی]









