امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 15 دسمبر : جموں و کشمیر حکومت نے پیر کے روز فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز ڈیپارٹمنٹ میں بھرتی کیے گئے 103 ملازمین کی خدمات اس وقت ختم کر دیں جب سرکاری انکوائری اور اینٹی کرپشن بیورو کی تحقیقات میں ان کی بھرتی کو غیر قانونی اور دھوکہ دہی پر مبنی قرار دیا گیا۔
محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ حکومتی حکم نامہ نمبر 608-ہوم آف 2025 کے مطابق، سال 2020 میں فائر مین اور فائر مین ڈرائیورز کی بھرتی کے دوران کی گئی تقرریوں کو غیر قانونی، ابتدا سے ہی کالعدم (Void ab initio) قرار دیتے ہوئے فوری طور پر منسوخ کر دیا گیا ہے۔
یہ کارروائی دسمبر 2022 میں قائم کی گئی انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کے بعد عمل میں آئی، جس میں انتخابی عمل میں سنگین بے ضابطگیوں کے الزامات کی جانچ کی گئی۔ کمیٹی نے پرچہ لیک، نتائج میں ہیرا پھیری اور سرکاری ریکارڈ سے چھیڑ چھاڑ کے شواہد سامنے آنے پر فوجداری تحقیقات کی سفارش کی تھی۔
اس کے بعد اینٹی کرپشن بیورو، جموں و کشمیر نے 2 جنوری 2025 کو ایف آئی آر نمبر 01/2025 درج کی۔ اے سی بی کی جانچ اور تفتیش میں او ایم آر جوابی شیٹس میں بڑے پیمانے پر رد و بدل، اسکین شدہ جوابات کی جعلی تیاری، میرٹ لسٹ میں ہیرا پھیری اور ڈیجیٹل شواہد میں تبدیلی کی تصدیق ہوئی۔ تحقیقات میں یہ بات ثابت ہوئی کہ کم از کم 106 امیدواروں کو ان کے اصل حاصل کردہ نمبروں سے کہیں زیادہ نمبر دیے گئے تھے۔
خبر رساں ایجنسی کشمیر نیوز ٹرسٹ (کے این ٹی) کے مطابق حکومتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ یہ تقرریاں مجرمانہ سازش اور دھوکہ دہی کے ذریعے حاصل کی گئیں، اس لیے وہ قانونی طور پر ناقابلِ جواز ہیں۔ حکم نامے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 311 کے تحت تحفظ ان معاملات پر لاگو نہیں ہوتا جہاں تقرری ابتدا سے ہی غیر قانونی ہو، جس کے لیے سپریم کورٹ اور جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ کے متعدد فیصلوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔
106 غیر قانونی طور پر منتخب امیدواروں میں سے تین کی تقرریاں پہلے ہی فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے لازمی تقرری تقاضے پورے نہ کرنے پر منسوخ کی جا چکی تھیں، جبکہ باقی 103 ملازمین کی خدمات موجودہ حکم نامے کے تحت ختم کی گئی ہیں۔
حکومت نے کہا ہے کہ ایسی تقرریوں کو برقرار رکھنا غیر قانونی عمل کو فروغ دینے، عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچانے اور بھرتی کے عمل کی شفافیت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہوگا۔ تمام برطرف کیے گئے افراد کو حکم نامے کے اجرا کی تاریخ سے محکمہ سے اپنا تعلق ختم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
برطرف کیے گئے ملازمین کی فہرست میں کشمیر اور جموں ڈویژن کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے امیدوار شامل ہیں۔ یہ حکم نامہ لیفٹیننٹ گورنر کی منظوری سے جاری کیا گیا ہے اور اس پر پرنسپل سیکریٹری محکمہ داخلہ کے دستخط ہیں۔ (کے این ٹی)










