امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی، 15 دسمبر : نیشنل کانفرنس کے راجیہ سبھا رکن گروِندر سنگھ اوبرائے نے پیر کے روز ایوانِ بالا میں مداخلت کرتے ہوئے آرٹیکل 370 کی منسوخی پر سخت تنقید کی اور جموں و کشمیر کو فوری طور پر ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔
کارروائی کے دوران خطاب کرتے ہوئے اوبرائے نے کہا کہ آرٹیکل 370 کو جموں و کشمیر کے عوام کی رضامندی کے بغیر یکطرفہ طور پر ختم کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نمائندگی کے بغیر جمہوریت کا وجود ممکن نہیں اور یہ فیصلہ عوام پر مسلط کیا گیا، قبول نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا، “خاموشی کو رضامندی نہ سمجھا جائے۔ ہمیں اقتدار کے سامنے سچ بولنا ہوگا۔”
خبر رساں ایجنسی کشمیر نیوز ٹرسٹ کے مطابق، این سی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام کو ان کے حقوق سے محروم رکھا گیا ہے اور ریاستی درجہ کی بحالی میں مسلسل تاخیر نے نظام اور عوام کے درمیان اعتماد کے فقدان کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جمہوری اصولوں کی پاسداری کے لیے ریاستی درجہ فوری طور پر بحال کیا جانا چاہیے۔
اوبرائے نے کہا کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کو ایک وقتی اقدام کے طور پر پیش کیا گیا تھا، مگر اس کے طویل مدتی اثرات نے خطے میں جمہوری گنجائش کو کمزور کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا، “ہم خیرات نہیں مانگ رہے، ہم عزت اور خودداری کے ساتھ جینے کے لیے جمہوری فضا چاہتے ہیں۔”
انہوں نے خبردار کیا کہ جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے اور کہا کہ تاریخ ان لوگوں کا فیصلہ کرے گی جنہوں نے آئین کا دفاع کیا اور ان کا بھی جنہوں نے اسے کمزور کرنے کا راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے کہا، “آنے والے برسوں میں لوگ یاد رکھیں گے کہ کس نے آئینی اقدار کا دفاع کیا اور کس نے انہیں نقصان پہنچایا۔” [کے این ٹی]










