امت نیوز ڈیسک ///
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ زمین کے تحفظ کے نام پر ان کی جانب سے پیش کیا گیا بل مسترد کر دیا گیا، لیکن زمینی سطح پر سرکار زمین کے تحفظ کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں اٹھا رہی ہے۔ یہ بات انہوں نے ضلع پلوامہ کے پوچھل علاقے کے دورے کے دوران کہی، جہاں سینکڑوں کنال سرکاری اراضی پر سیکورٹی فورسز کے لیے ہیڈکوارٹر قائم کرنے کی تجویز کے خلاف عوام میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
محبوبہ مفتی نے اس موقع پر علاقے کے کسانوں اور مقامی لوگوں سے ملاقات کی اور ان کے مسائل سنے۔ مقامی لوگوں نے پی ڈی پی صدر کو بتایا کہ وہ گزشتہ کئی برسوں سے اس زمین پر کاشت کاری کرتے آ رہے ہیں اور یہی زمین ان کے روزگار کا واحد ذریعہ ہے۔ عوام کا کہنا تھا کہ یہ علاقہ سیلابی زون میں واقع ہے اور سیلاب کے دوران یہی کھلی زمین ان کے لیے محفوظ پناہ گاہ ثابت ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہاں کئی میوہ باغات بھی قائم ہیں جن سے سینکڑوں خاندانوں کا روزگار وابستہ ہے۔ اگر یہ زمین لی گئی تو علاقے کے بچوں اور نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اس موقع پر محبوبہ مفتی نے حکومت پر زور دیا کہ وہ زرخیز اور قابلِ کاشت زمین کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کرے تاکہ مقامی لوگوں کو زمین سے محروم نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں پہلے ہی بے روزگاری عروج پر ہے اور اگر اس طرح کے فیصلے کیے گئے تو بے روزگاری میں مزید اضافہ ہوگا۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اگر حکومت کو سیکورٹی فورسز کے لیے زمین درکار ہے تو وہ متبادل اور غیر زرعی اراضی کی نشاندہی کرے، لیکن زرخیز زمین کو محفوظ رکھا جائے۔
محبوبہ مفتی نے یاد دلایا کہ انہوں نے اسمبلی میں زمین کے تحفظ کے لیے بل اسی مقصد سے پیش کیا تھا، تاہم اس وقت انہیں زمین چور کہا گیا۔ واضح رہے کہ پوچھل علاقے میں سیکورٹی فورسز کے ہیڈکوارٹر کے قیام کے لیے تقریباً 195 کنال اراضی کی نشاندہی کی گئی ہے، جس پر مقامی آبادی میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔









