امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی: دہلی کی پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے لال قلعہ دھماکہ کیس میں گرفتار یاسر احمد ڈار کو 26 دسمبر تک این آئی اے کی تحویل میں بھیج دیا ہے۔ ڈار کو گرفتار کرنے کے بعد این آئی اے نے انہیں پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں پیش کیا۔ پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج انجو بجاج چندنا نے ڈار کو این آئی اے کی تحویل میں رکھنے کا حکم دیا۔
اس معاملے میں یہ نویں گرفتاری ہے۔ تمام ملزمین فی الحال حراست میں ہیں۔ این آئی اے تمام ملزمین سے پوچھ گچھ کر رہی ہے تاکہ پوری سازش کا پردہ فاش کیا جا سکے۔ 18 نومبر کو پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے لال قلعہ دھماکہ کیس کے ملزم اور خودکش بمبار ڈاکٹر عمر نبی کے ساتھی جاسر بلال وانی عرف دانش کو این آئی اے کی تحویل میں دے دیا۔ این آئی اے نے دانش کو سری نگر سے گرفتار کیا۔ این آئی اے کے مطابق دانش نے ڈرون میں تکنیکی تبدیلیاں کیں اور کار بم دھماکے سے قبل راکٹ کو اسمبل کرنے کی کوشش کی۔
خودکش بمبار بننے کے لیے برین واش
این آئی اے کے مطابق دانش نے عمر نبی کے ساتھ مل کر پوری سازش کو انجام دینے میں کلیدی رول ادا کیا تھا۔ این آئی اے کے مطابق پولیٹیکل سائنس میں گریجویٹ دانش کو عمر نے خودکش بمبار بننے کے لیے برین واش کیا تھا۔ انہوں نے اکتوبر 2024 میں کولگام کی ایک مسجد میں ڈاکٹر ماڈیول سے ملنے کا اتفاق کیا، جہاں سے انہیں فرید آباد، ہریانہ میں الفلاح یونیورسٹی میں قیام کے لیے لے جایا گیا۔
واضح رہے کہ یہ دھماکہ 10 نومبر کو لال قلعہ کے قریب آئی 10 کار میں ہوا تھا۔ یہ گاڑی عامر رشید علی کے نام پر تھی۔ اس دھماکے میں 13 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوئے تھے۔










