امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی، 18 دسمبر :جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ایل جی اب بھی کئی ایسے اہم اداروں اور شعبوں پر کنٹرول رکھے ہوئے ہیں جو قانون کے مطابق منتخب حکومت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ایل جی عوامی طور پر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ صرف سکیورٹی اور لاء اینڈ آرڈر کے معاملات دیکھتے ہیں، لیکن زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ منتخب حکومت اور ایل جی انتظامیہ کے درمیان ورکنگ ریلیشن شپ، مرکزی حکومت کے ساتھ تعلقات سے مختلف ہے۔ ان کے مطابق مرکز نے مجموعی طور پر تعاون کیا ہے، تاہم کئی اہم ادارے اب تک منتخب حکومت کے حوالے نہیں کیے گئے۔
کشمیر نیوز ٹرسٹ کے مطابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگرچہ وہ پاور منسٹر ہیں، مگر جموں و کشمیر پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن پر ان کا کوئی اختیار نہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اپنی سابقہ مدتِ حکومت میں وہ اس کارپوریشن کے چیئرمین تھے، لیکن منتخب حکومت ہونے کے باوجود چیئرمین شپ اب بھی لیفٹیننٹ گورنر کے پاس ہے۔
عمر عبداللہ نے مزید کہا کہ بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی اور اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے قوانین کے مطابق وزیر اعلیٰ کو ان کا چانسلر ہونا چاہیے، مگر تاحال یہ عہدے ایل جی کے پاس ہی ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ جموں و کشمیر اکیڈمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لینگویجز پر بھی ایل جی کا کنٹرول برقرار ہے، حالانکہ ثقافتی محکمہ اب منتخب حکومت کے پاس ہے۔
وزیر اعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ (ڈی آئی پی آر) میں جے کے اے ایس کیڈر کی پوسٹ پر ایک آئی اے ایس افسر کی تعیناتی کی گئی، جس کا مقصد منتخب حکومت کو انفارمیشن ڈپارٹمنٹ سے دور رکھنا ہے۔
سیاحت کے شعبے پر بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ وہ خود سیاحت کا قلمدان رکھتے ہیں، مگر ٹورزم ڈیولپمنٹ اتھارٹیز پر ان کا کوئی اختیار نہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ لیفٹیننٹ گورنر نے 21 دسمبر کو گلمرگ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا اجلاس بھی طلب کیا ہے، جس پر سوال اٹھتا ہے کہ ایل جی کس بنیاد پر ان اداروں کی سربراہی کر رہے ہیں جو براہِ راست وزارتی قلمدان سے جڑے ہیں۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ اگر یہ تمام اختیارات مرکزی حکومت کی منظوری سے استعمال کیے جا رہے ہیں تو یہ تشویشناک بات ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ مرکز کا رویہ مجموعی طور پر تعاون پر مبنی رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے زور دے کر کہا کہ سکیورٹی اور لاء اینڈ آرڈر کے علاوہ دیگر شعبوں میں ایل جی کی مداخلت منتخب حکومت کے کام میں رکاوٹ کے مترادف ہے۔(کے این ٹی)










