امت نیوز ڈیسک //
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کے روز کہا کہ دہلی اور کشمیر میں ان کا سیاسی مؤقف ایک ہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جہاں کہیں مرکزی حکومت کی مدد حاصل ہوتی ہے وہ اس کا اعتراف کرتے ہیں اور جہاں کمی رہ جاتی ہے، خاص طور پر ریاستی درجہ کی بحالی کے معاملے پر، وہاں وہ کھل کر بات کرتے ہیں۔
نوگام ریلوے اسٹیشن پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے اس الزام کو مسترد کیا کہ وہ مختلف مقامات پر مختلف بیانات دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا، “میں یہاں بھی یہی کہتا ہوں اور ہر جگہ یہی کہتا ہوں۔ میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو سیاست کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دیں۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ مرکزی حکومت کی مدد اور کوتاہی دونوں کا برملا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا، “جہاں مرکزی حکومت نے مدد کی ہے، میں اس کی تعریف کرتا ہوں اور جہاں کمی رہی ہے، وہاں اس کی نشاندہی بھی کرتا ہوں۔”
ریاستی درجہ کی بحالی کے سوال پر عمر عبداللہ نے کہا کہ مرکز نے اب تک اس مطالبے پر کوئی مثبت پیش رفت نہیں کی۔ انہوں نے کہا، “میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ ریاستی درجہ کے معاملے پر مرکزی حکومت کی جانب سے شکایات کے سوا ہمیں کچھ نہیں ملا۔”
انہوں نے واضح کیا کہ وہ کسی کو خوش کرنے کے لیے غلط بیانی نہیں کریں گے۔ “کسی کا دل رکھنے کے لیے جھوٹ بولنا میرے لیے غلط ہوگا،” انہوں نے کہا۔ عمر عبداللہ نے مزید بتایا کہ وہ اس مسئلے کو ہر پلیٹ فارم پر اٹھاتے رہے ہیں۔ “میں نے میٹنگوں میں، پروگراموں میں اور سرینگر و جموں کی اسمبلی میں بار بار یہ بات کہی ہے،” انہوں نے کہا۔
مہاتما گاندھی سے منسلک اسکیم کو ختم کر کے جی رام جی بل لانے پر تنقید کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مہاتما گاندھی کا نام ہٹانا غلط ہے اور سوال کیا کہ اس طرح کا نام کسی بل کے لیے کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تبدیلی کے بعد اسکیم کی ذمہ داری ریاستوں پر ڈال دی گئی ہے، جس سے جموں و کشمیر جیسی ریاستیں متاثر ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ متعدد تبدیلیاں کی گئی ہیں جن سے ان کی ریاست کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہوگا۔
برفباری کی تیاریوں کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انتظامیہ نے دونوں ڈویژنوں میں تمام انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔ انہوں نے کہا، “میں خود سرینگر آیا اور میٹنگ کی۔ کشمیر ڈویژن اور جموں ڈویژن، خاص طور پر وہ علاقے جہاں برفباری کا امکان ہے، وادی کے تمام اضلاع اور جموں کے پہاڑی علاقوں میں انتظامیہ نے اپنی طرف سے مکمل تیاریاں کی ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ تیاریوں کی حقیقت کا اندازہ برفباری شروع ہونے کے بعد ہی ہوگا۔ “کل جب برفباری شروع ہوگی تو معلوم ہو جائے گا کہ تیاریاں کافی ہیں یا نہیں،” انہوں نے کہا۔
وزیر اعلیٰ نے عوام سے اپیل کی کہ اگر برفباری کے دوران مشکلات پیش آئیں تو شکایت نہ کریں۔ “اگر برفباری کے باعث ہمیں کچھ مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑے تو کسی کو شکایت نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ ہم اس برف کا انتظار کر رہے تھے،” انہوں نے کہا۔
انہوں نے کہا کہ برفباری سے آلودگی میں کمی آئے گی اور سرمائی سیاحت کو فروغ ملے گا۔ “اس سے ہوا صاف ہوگی، جو آلودگی ہم نے دیکھی ہے وہ ختم ہو جائے گی اور سرمائی سیاحتی سیزن کا آغاز ہوگا،” انہوں نے کہا۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ انتظامیہ نے پیشگی اقدامات کیے ہیں۔ “ہم نے تمام تیاریاں اپنی طرف سے مکمل کر لی ہیں،” انہوں نے کہا۔ (کے این ایس)










