امت نیوز ڈیسک //
جموں — پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے اتوار کو کہا کہ ان کے والد اور جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کو 2015 میں بی جے پی کے ساتھ مخلوط حکومت بنانے کے فیصلے پر عوام نے غلط سمجھا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے ساتھ اتحاد کا فیصلہ جموں و کشمیر کے وسیع تر مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے لیا گیا تھا۔
محبوبہ مفتی، جو خود بھی سابق وزیر اعلیٰ رہ چکی ہیں، اپنی پارٹی کے عوامی رابطہ پروگرام ’گال بات‘ کے دوران خطاب کر رہی تھیں، جس کا مقصد بالخصوص 2019 میں دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد عوامی شکایات اور مسائل سننا تھا۔
انہوں نے کہا کہ بے لگام کانکنی، مقامی کاروباروں کی آؤٹ سورسنگ، بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور منشیات کے بڑھتے استعمال نے خطے میں عوامی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے نیشنل کانفرنس کی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ زمینی سطح پر کوئی نمایاں تبدیلی لانے میں ناکام رہی ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا،
“مفتی صاحب نے جموں کے عوام کے مینڈیٹ کا احترام کیا جنہوں نے 2014 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو 28 نشستیں دیں۔ یہ ایک آسان فیصلہ نہیں تھا۔ بی جے پی کہاں اور پی ڈی پی کہاں؟ مگر مفتی صاحب نے کہا تھا کہ ‘میں جموں کے عوام کو کیا جواب دوں گا؟’”
بی جے پی اور پی ڈی پی کے درمیان طے پانے والے ایجنڈا آف الائنس کے حوالے سے محبوبہ مفتی نے کہا کہ یہ اتحاد جموں و کشمیر کے تحفظ اور پوری ریاست میں استحکام کو یقینی بنانے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا، اور اس وقت بی جے پی نے دفعہ 370 کو تسلیم کیا تھا۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا،
“بدقسمتی سے مفتی صاحب کا انتقال ہو گیا، ورنہ آج جموں و کشمیر کی صورتحال مختلف ہوتی۔ وہ جموں و کشمیر کو ایک منی انڈیا سمجھتے تھے اور دفعہ 370 اسی شناخت کے تحفظ کے لیے تھی۔”
کانکنی کے معاملے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوامی حکومت کے قیام کے بعد انہیں کچھ حد تک کنٹرول کی امید تھی، مگر ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ ان کے والد نے جموں کے عوام کے لیے “بڑی قربانی” دی، مگر نہ کشمیری عوام اور نہ ہی جموں کے لوگ اس قربانی کو سمجھ سکے۔
دریں اثنا، انہوں نے ڈوگری اور کشمیری جیسی مقامی زبانوں کے تحفظ پر زور دیا اور کہا کہ کشمیر میں لوگ کھل کر بات نہیں کر پا رہے ہیں۔ انہوں نے ملک میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا،
“یہ عدم برداشت صرف مسلمانوں تک محدود نہیں، بلکہ ایک عمومی مسئلہ بن چکی ہے۔ اگر کوئی شخص سوال پوچھے تو اسے مسئلہ بنا دیا جاتا ہے۔” (پی ٹی آئی)











