امت نیوز ڈیسک ///
اننت ناگ : اننت ناگ کے لیے ایک اہم اور تاریخی پیش رفت کے طور پر پہلی بار راشن سے بھری ٹرین ضلع اننت ناگ کے ونپوہ ریلوے اسٹیشن پر پہنچ گئی ہے، جس سے خطے میں ضروری اشیائے خورد و نوش کی ترسیل کے نظام کو مضبوط بنانے کی نئی راہیں ہموار ہو گئی ہیں۔
پنجاب سے روانہ ہونے والی یہ ٹرین آج سخت ترین سکیورٹی انتظامات کے بیچ ریلوے پولیس کی نگرانی میں بحفاظت ونپوہ ریلوے اسٹیشن پر پہنچی۔
ریلوے کے ذریعے راشن کی ترسیل کو وادی کشمیر کے لیے ایک بڑی سہولت اور اہم متبادل قرار دیا جا رہا ہے۔ ماضی میں قومی شاہراہ کی بار بار بندش، بالخصوص خراب موسمی حالات کے دوران، کشمیر میں راشن اور دیگر ضروری اشیاء کی قلت ایک بڑا مسئلہ بنی رہی ہے۔
اس نئی ریل سروس کے آغاز سے توقع ہے کہ ان مشکلات پر بڑی حد تک قابو پایا جا سکے گا اور عوام کو بلا تعطل راشن کی فراہمی ممکن ہو گی۔ اس اقدام سے نہ صرف راشن کی بروقت دستیابی یقینی بنے گی بلکہ اننت ناگ اور آس پاس کے علاقوں میں روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ راشن کی لوڈنگ، ان لوڈنگ، ذخیرہ اندوزی اور ترسیل کے مختلف مراحل میں مقامی افراد کو روزگار ملنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے، جس سے مقامی معیشت کو بھی تقویت ملے گی۔
اس موقعے پر خطاب کرتے ہوئے فوڈ کارپوریشن آف انڈیا (ایف سی آئی) کے ڈویژنل منیجر کے ایل مینا نے کہا کہ ریل کے ذریعے راشن کی ترسیل سے کشمیر تک سامان پہنچانے میں لگنے والا وقت نمایاں طور پر کم ہو جائے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ریل ٹرانسپورٹ کے استعمال سے نقل و حمل کے اخراجات میں بھی کمی آئے گی، جس سے پورا سپلائی سسٹم زیادہ مؤثر، منظم اور معاشی طور پر فائدہ مند ثابت ہوگا۔
عوامی حلقوں میں اس پیش رفت کا خیر مقدم کیا جا رہا ہے اور اسے وادی کشمیر میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانے اور ضروری اشیائے خورد و نوش کی بلا رکاوٹ فراہمی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر اس نظام کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھا گیا تو مستقبل میں وادی کو راشن کی قلت جیسے مسائل سے بڑی حد تک نجات مل سکتی ہے۔
مجموعی طور پر اننت ناگ ریلوے اسٹیشن پر پہلی بار راشن ٹرین کی آمد کو ایک تاریخی لمحہ قرار دیا جا رہا ہے جو نہ صرف سپلائی چین کو مضبوط بنائے گا بلکہ خطے کی سماجی و اقتصادی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔










