امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: ایک خصوصی عدالت نے سال 2020 میں ٹینگن، نوگام بائی پاس (سرینگر-جموں قومی شاہراہ) پر سی آر پی ایف پارٹی پر حملے کے مقدمے میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے تین مقامی ملزمان کو بری کیا۔ اس حملے میں دو جوان ہلاک اور کئی زخمی ہوئے تھے۔
پانچ سال سے زیر سماعت اس کیس میں تین مقامی باشندوں بشمول فیصل احمد گنائی، وسیم احمد گنائی، اور شاکر احمد ڈار – پر حملہ آوروں کی مدد کرنے انہیں محفوظ رہائش اور نقل و حمل میں معاونت جیسے لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ تاہم عدالت نے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ ’’تمام چشم دید گواہ صرف ’نامعلوم دہشت گردوں‘ کے حملے کی بات کرتے ہیں، جو کسی ملزم کا نام نہیں لیتے۔‘‘
عدالت نے نشاندہی کی کہ مقدمے میں براہ راست شواہد دستیاب نہیں، نہ کوئی سائنسی یا تکنیکی ثبوت ہے، نہ سی سی ٹی وی فوٹیج، اور نہ ہی کوئی ایسا ثبوت جو ان تین ملزمان کو اس واقعے کے ساتھ سے جوڑ سکے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ’’جن ہتھیاروں اور کارتوسوں کی بازیابی کا ذکر ہے، وہ موجودہ واقعے کے ساتھ ایسا ربط نہیں رکھتے جو واضح طور پر ثابت کیا جا سکے۔‘‘
فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ سبھی الزامات کو ’’معقول شک سے بالاتر‘‘ ثابت کرنے میں ناکام رہا، اس لیے تینوں ملزمان کو بری کیا جاتا ہے۔ عدالت نے مزید ہدایت دی کہ ’’اگر کسی اور مقدمے میں گرفتاری مطلوب نہ ہو تو تمام ملزمان کو فوراً رہا کیا جائے۔‘‘ اس فیصلے کے ساتھ ہی چار سال پرانے اس مقدمے کا اختتام ہوا جس کا تعلق نوگام پولیس اسٹیشن کی ایف آئی آر نمبر 138/2020 سے تھا۔









