اس سوشل میڈیا کے دور میں آج شاید ہی کوئی چیز نجی یا پرائیویٹ رہ گئی ہو۔ اگر ہم کشمیر کے تناظر میں دیکھیں تو دوست سے ملاقات کرنا، نئی کتاب خریدنا، کسی ریستوراں یا ہوٹل میں کھانا پینا،ایسی کون سی چیز ہے جو سوشل میڈیا پر شیئر نہ کی جاتی ہو۔
یہ الگ بحث ہے کہ سوشل میڈیا پر کیا شیئر کرنا چاہیے اور کیا نہیں، لیکن کشمیر میں ایک نئی اور غیر مناسب روایت نے جنم لینا شروع کر دیا ہے، اور وہ ہے شادی کی ویڈیوز اور تصاویر کو سوشل میڈیا پر عام کرنا۔ چند برس پہلے تک شادی بیاہ کی چند تصاویر شیئر کی جاتی تھیں، لیکن اب یہ معاملہ سنگین رخ اختیار کر گیا ہے۔ اس پر علماء اور سول سوسائٹی دونوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہ رویہ تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے کہ شادی جیسے خاندانی اور نجی مواقع پر بنائی جانے والی ویڈیوز اور تصاویر کو کھلے عام سوشل میڈیا پر ڈال دیا جاتا ہے۔ بظاہر تو یہ خوشی کے لمحات دوسروں تک پہنچانے کے لیے کیا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس عمل سے نہ صرف نجی زندگی کی حدیں پامال ہوتی ہیں بلکہ خاندان کی عزت اور وقار بھی متاثر ہوتا ہے۔ ایک بار جب تصاویر یا ویڈیوز انٹرنیٹ پر آ جائیں تو وہ ہمیشہ کے لیے عام ہو جاتی ہیں اور کوئی بھی شخص انہیں ڈاؤن لوڈ یا غلط استعمال کر سکتا ہے۔ یہ بات نہ صرف ہماری معاشرتی اخلاقیات بلکہ اسلامی تعلیمات کے بھی خلاف ہے۔
اسلام میں حیاء اور پردے کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ نکاح ایک مقدس معاہدہ ہے جو دو خاندانوں کو جوڑتا ہے، نہ کہ محض تفریح یا نمائش کا ذریعہ۔ اس موقع پر نجی لمحات کو دنیا کے سامنے پیش کرنا دراصل اپنے وقار کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ میرواعظ کشمیر مولوی عمر فاروق نے بھی ایک تقریب میں اسی بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نکاح ایک پرائیویٹ معاملہ ہے اور اس کو ایسے ویڈیوز بنا کر بازار میں ڈالنا بہت بری چیز ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی تقریبات کو اپنی حدود میں رکھیں اور ان حسین یادوں کو یادگار کے طور پر محفوظ کریں، نہ کہ سوشل میڈیا کی زینت بنا کر دوسروں کی نگاہوں میں تماشا۔ معاشرتی شعور اور دینی اقدار کا تقاضا ہے کہ شادی بیاہ کے نجی لمحات کی حفاظت کی جائے تاکہ ایسی نئی بدعات پر وقت پر قابو پایا جا سکے…









