ہسپتالوں اور کلینکوں کی بھول بھلیوں میں، جہاں انسانیت کی دھڑکن امید اور مایوسی کے درمیان دھڑکتی ہے، وہاں ایک نہایت سنگین بیماری اکثر نظر انداز کر دی جاتی ہے ڈاکٹروں اور مریضوں کے درمیان رابطے کی کمی۔
آج کے اس دور میں جب مشینیں دل کی ہر دھڑکن گن سکتی ہیں، اور اسکین جسم کے ہر اعصاب تک پہنچ سکتا ہے، وہاں ایک چیز اب بھی ناپی نہیں جا سکتی انسانی تعلق، جو اصل شفا کا جوہر ہے۔
ہمارے ہسپتالوں میں اکثر مریض اعتماد کے ساتھ داخل ہوتے ہیں مگر الجھن میں مبتلا ہو کر نکلتے ہیں۔ ان سے ایسے الفاظ میں بات کی جاتی ہے جو ان کے لئے اجنبی ہیں۔ ان کے لئے طب کی زبان ایک دیوار بن گئی ہے، پل نہیں۔ ایمرجنسی وارڈ کے باہر بیٹھی ماں کو سائنسی اصطلاحات نہیں، تسلی چاہیے۔ درد میں مبتلا بزرگ کو ’’ٹرمز‘‘ نہیں، سمجھ بوجھ چاہیے۔ اور ایک بچے کے فکرمند والدین کو’’اعداد و شمار‘‘ نہیں، بلکہ امید چاہیے وہ بھی اپنی زبان میں، دل کی زبان میں۔
سچ یہ ہے کہ زبان دوا سے پہلے شفا دیتی ہے۔جب ایک ڈاکٹر مریض سے اس کی مادری زبان کشمیری، ڈوگری، گوجری یا ہندی یا کسی مادری زبان میں بات کرتا ہے، تو مریض خود کو سمجھا ہوا، مانا ہوا اور محفوظ محسوس کرتا ہے۔ یہی تعلق، یہی لمحہ، شفا کی پہلی سیڑھی بن جاتا ہے۔
لیکن بدقسمتی سے ہمارے بیشتر طبی اداروں میں زبان کی یہ راحت ناپید ہے۔ ڈاکٹر اکثر انگریزی یا اردو میں بات کرتے ہیں، اور مریض اپنے ہی مرض کو سمجھنے کے لیے دوسروں پر انحصار کرتے ہیں۔ یہ نظام بدلنا ہوگا۔ وقت آ گیا ہے کہ ہمارا صحت کا ڈھانچہ رابطے کو ایک طبی مہارت کے طور پر تسلیم کرے کوئی نرم صلاحیت نہیں، بلکہ زندگی بچانے والی طاقت ہیں ۔
ہر ڈاکٹر کو مادری زبان میں مریض سے بات کرنے کی نہ صرف ترغیب دی جانی چاہیے بلکہ اسے لازمی بنایا جانا چاہیے۔ مریض کی زبان میں بات کرنا محض نرمی نہیں یہ ہمدردی کا عملی اظہار ہے۔
اسی طرح، مقامی ڈاکٹروں کی تعیناتی بھی ناگزیر ہے جو اپنے لوگوں کے جذبات، رسم و رواج، اور زبان سے واقف ہوں۔ ایک مقامی ڈاکٹر نہ صرف جسمانی علامات سمجھتا ہے بلکہ دل کے زخموں کو بھی پڑھ لیتا ہے۔ یہ علم کتابوں سے نہیں آتا، یہ مٹی کی میراث ہے۔
مگر یہ بھی کافی نہیں۔ ہر ڈاکٹر کی تعلیم میں اخلاقیات اور رابطے کی تربیت لازمی ہونی چاہیے وہ بھی ایک یا دو ہفتے کی نہیں بلکہ طویل عرصے کی۔کم از کم سات ماہ کی تربیت برائے اخلاق، ہمدردی اور انسانی رابطہ ہر میڈیکل کورس کا حصہ ہونی چاہیے۔ ایک کامیاب ڈاکٹر وہ نہیں جو صرف مرض پہچانے بلکہ وہ ہے جو مریض کو تسلی دے سکے، سمجھا سکے، اور امید دے سکے۔
حلفِ بقراط ہمیں سکھاتا ہے کہ نقصان نہ پہنچاؤ،مگر کبھی کبھی خاموشی یا غلط الفاظ بھی چاقو سے زیادہ گہرے زخم چھوڑ جاتے ہیں۔ ایسے دور میں جب اداروں پر اعتماد کمزور ہو چکا ہے، ڈاکٹر کی آواز سب سے مضبوط آس بننی چاہیے۔
صحت صرف عمارتوں، مشینوں اور دواؤں کا نام نہیں ، یہ انسانی لمس کا نام ہے۔ہمارے ہسپتال مشینی کمروں کی طرح نہیں بلکہ رحم و شفقت کے مراکز بننے چاہییں۔ایک صحت کا نظام جو بات چیت سے خالی ہو، وہ جسم ہے جس میں روح نہیں۔آئیے، اس روح کو واپس لائیں ایسی روح جس میں دیکھ بھال ہر دل کی زبان میں بولی جائے،جہاں ڈاکٹر صرف علاج نہ کریں بلکہ سنیں بھی۔کیونکہ شفا وہاں سے شروع نہیں ہوتی ہے کہ جہاں دوا دی جاتی ہے،بلکہ وہاں سے جہاں مریض کو سمجھا جاتا ہے۔
جب معالج اور طبیب مریض کی مادری زبان میں بات کرتے ہیں تو علاج سمجھ بن جاتا ہے اور دیکھ بھال ایک رشتہ بن جاتی ہے۔ڈاکٹر کے چند حوصلہ افزا الفاظ وہ شفا دیتے ہیں جو کسی دوا سے ممکن نہیں وہ جسم ہی نہیں، روح کو بھی بحال کرتے ہیں۔
(مصنف کشمیر یونیورسٹی کے طالب علم ہے اور پرنٹ میڈیا صحافی ہیں۔)










