• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
پیر, جنوری ۲۶, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result

مادری زبان کی مٹھاس مریض کی روح کو تراوت بخشتی ہے

اعجاز بابا

by امت ڈیسک
27/12/2025
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

ہسپتالوں اور کلینکوں کی بھول بھلیوں میں، جہاں انسانیت کی دھڑکن امید اور مایوسی کے درمیان دھڑکتی ہے، وہاں ایک نہایت سنگین بیماری اکثر نظر انداز کر دی جاتی ہے ڈاکٹروں اور مریضوں کے درمیان رابطے کی کمی۔

آج کے اس دور میں جب مشینیں دل کی ہر دھڑکن گن سکتی ہیں، اور اسکین جسم کے ہر اعصاب تک پہنچ سکتا ہے، وہاں ایک چیز اب بھی ناپی نہیں جا سکتی انسانی تعلق، جو اصل شفا کا جوہر ہے۔

ہمارے ہسپتالوں میں اکثر مریض اعتماد کے ساتھ داخل ہوتے ہیں مگر الجھن میں مبتلا ہو کر نکلتے ہیں۔ ان سے ایسے الفاظ میں بات کی جاتی ہے جو ان کے لئے اجنبی ہیں۔ ان کے لئے طب کی زبان ایک دیوار بن گئی ہے، پل نہیں۔ ایمرجنسی وارڈ کے باہر بیٹھی ماں کو سائنسی اصطلاحات نہیں، تسلی چاہیے۔ درد میں مبتلا بزرگ کو ’’ٹرمز‘‘ نہیں، سمجھ بوجھ چاہیے۔ اور ایک بچے کے فکرمند والدین کو’’اعداد و شمار‘‘ نہیں، بلکہ امید چاہیے وہ بھی اپنی زبان میں، دل کی زبان میں۔

سچ یہ ہے کہ زبان دوا سے پہلے شفا دیتی ہے۔جب ایک ڈاکٹر مریض سے اس کی مادری زبان کشمیری، ڈوگری، گوجری یا ہندی یا کسی مادری زبان میں بات کرتا ہے، تو مریض خود کو سمجھا ہوا، مانا ہوا اور محفوظ محسوس کرتا ہے۔ یہی تعلق، یہی لمحہ، شفا کی پہلی سیڑھی بن جاتا ہے۔

لیکن بدقسمتی سے ہمارے بیشتر طبی اداروں میں زبان کی یہ راحت ناپید ہے۔ ڈاکٹر اکثر انگریزی یا اردو میں بات کرتے ہیں، اور مریض اپنے ہی مرض کو سمجھنے کے لیے دوسروں پر انحصار کرتے ہیں۔ یہ نظام بدلنا ہوگا۔ وقت آ گیا ہے کہ ہمارا صحت کا ڈھانچہ رابطے کو ایک طبی مہارت کے طور پر تسلیم کرے کوئی نرم صلاحیت نہیں، بلکہ زندگی بچانے والی طاقت ہیں ۔
ہر ڈاکٹر کو مادری زبان میں مریض سے بات کرنے کی نہ صرف ترغیب دی جانی چاہیے بلکہ اسے لازمی بنایا جانا چاہیے۔ مریض کی زبان میں بات کرنا محض نرمی نہیں یہ ہمدردی کا عملی اظہار ہے۔

اسی طرح، مقامی ڈاکٹروں کی تعیناتی بھی ناگزیر ہے جو اپنے لوگوں کے جذبات، رسم و رواج، اور زبان سے واقف ہوں۔ ایک مقامی ڈاکٹر نہ صرف جسمانی علامات سمجھتا ہے بلکہ دل کے زخموں کو بھی پڑھ لیتا ہے۔ یہ علم کتابوں سے نہیں آتا، یہ مٹی کی میراث ہے۔

مگر یہ بھی کافی نہیں۔ ہر ڈاکٹر کی تعلیم میں اخلاقیات اور رابطے کی تربیت لازمی ہونی چاہیے وہ بھی ایک یا دو ہفتے کی نہیں بلکہ طویل عرصے کی۔کم از کم سات ماہ کی تربیت برائے اخلاق، ہمدردی اور انسانی رابطہ ہر میڈیکل کورس کا حصہ ہونی چاہیے۔ ایک کامیاب ڈاکٹر وہ نہیں جو صرف مرض پہچانے بلکہ وہ ہے جو مریض کو تسلی دے سکے، سمجھا سکے، اور امید دے سکے۔

حلفِ بقراط ہمیں سکھاتا ہے کہ نقصان نہ پہنچاؤ،مگر کبھی کبھی خاموشی یا غلط الفاظ بھی چاقو سے زیادہ گہرے زخم چھوڑ جاتے ہیں۔ ایسے دور میں جب اداروں پر اعتماد کمزور ہو چکا ہے، ڈاکٹر کی آواز سب سے مضبوط آس بننی چاہیے۔

صحت صرف عمارتوں، مشینوں اور دواؤں کا نام نہیں ، یہ انسانی لمس کا نام ہے۔ہمارے ہسپتال مشینی کمروں کی طرح نہیں بلکہ رحم و شفقت کے مراکز بننے چاہییں۔ایک صحت کا نظام جو بات چیت سے خالی ہو، وہ جسم ہے جس میں روح نہیں۔آئیے، اس روح کو واپس لائیں ایسی روح جس میں دیکھ بھال ہر دل کی زبان میں بولی جائے،جہاں ڈاکٹر صرف علاج نہ کریں بلکہ سنیں بھی۔کیونکہ شفا وہاں سے شروع نہیں ہوتی ہے کہ جہاں دوا دی جاتی ہے،بلکہ وہاں سے جہاں مریض کو سمجھا جاتا ہے۔
جب معالج اور طبیب مریض کی مادری زبان میں بات کرتے ہیں تو علاج سمجھ بن جاتا ہے اور دیکھ بھال ایک رشتہ بن جاتی ہے۔ڈاکٹر کے چند حوصلہ افزا الفاظ وہ شفا دیتے ہیں جو کسی دوا سے ممکن نہیں وہ جسم ہی نہیں، روح کو بھی بحال کرتے ہیں۔

(مصنف کشمیر یونیورسٹی کے طالب علم ہے اور پرنٹ میڈیا صحافی ہیں۔)

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

ریزرویشن پالیسی پر احتجاج کی تیاری: نیشنل کانفرنس نے آغا روح اللہ مہدی سے استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا

Next Post

نکاح ایک نجی معاملہ، سوشل میڈیا کی نمائش نہیں

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

امریکہ کی لوٹ مار جاری! وینزویلا کا تیل امریکا کے لیے اتنا قیمتی کیوں؟

فرشتوں سے بہتر انسان بننا ہی کیوں

16/01/2026
امریکہ کی لوٹ مار جاری! وینزویلا کا تیل امریکا کے لیے اتنا قیمتی کیوں؟

امریکہ کی لوٹ مار جاری! وینزویلا کا تیل امریکا کے لیے اتنا قیمتی کیوں؟

16/01/2026

کشمیر بغیر برف کے: ایک انتباہی موسمِ سرما

16/01/2026
جموں و کشمیر کے سرکاری تعلیمی ادارے  تشویشناک صورتحال میں ”تعلیم کا اجالا یا انتظامیہ کی تاریکی؟ یو ٹی کے تعلیمی نظام پر ایک نوحہ’’

علمائے حق کی توہین ناقابلِ برداشت: کشمیری قوم کا دوٹوک مؤقف

09/01/2026

یومِ جمہوریہ: قوم کے لیے ایک قابلِ فخر لمحہ

09/01/2026
نسائی شاعری کا ارتقا

نسائی شاعری کا ارتقا

09/01/2026
Next Post
نکاح ایک نجی معاملہ، سوشل میڈیا کی نمائش نہیں

نکاح ایک نجی معاملہ، سوشل میڈیا کی نمائش نہیں

ویشنو دیوی میڈیکل تنازع: جموں میں   ایل جی سنہا کا پتلا نذر آتش

ویشنو دیوی میڈیکل تنازع: جموں میں ایل جی سنہا کا پتلا نذر آتش

روح اللہ نے اسپتال میں زخمیوں کی عیادت کی، نواگام پولیس اسٹیشن دھماکے میں غفلت پر سوالات، جوابدہی کا مطالبہ

ریزرویشن تنازع: روح اللہ مہدی نے حکومت کے نمائندوں کو ’وائسرائے‘ کے خلاف احتجاج میں شامل ہونے کی دعوت دی

بیرون ریاست کشمیریوں کی ہراسانی۔۔۔۔حکومت نوٹس لے

بیرون ریاست کشمیریوں کی ہراسانی۔۔۔۔حکومت نوٹس لے

جموں و کشمیر کا بے ہنگم سیاسی بیانیہ!

جموں و کشمیر کا بے ہنگم سیاسی بیانیہ!

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »