امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: جموں کشمیر پولیس نے ایک کشمیری کرکٹر کو پوچھ گچھ کیلئے طلب کیا ہے ۔ کرکٹر کے بارے میں بتایا جا تا ہے کہ این مقامی ٹورنامنٹ میں کھیلتے ہوئے اسکا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ ہوا ہے جس میں اسکے ہیلمٹ پر فلسطین کا جھنڈا دکھائی دے رہا ہے۔ اس ویڈیو کے بعد جموں میں دائیں بازو سے وابستہ کئی افراد نے اس کھلاڑی کو ہدف تنقید بنایا ہے۔
کرکٹر کی شناخت فرقان بٹ کے نام سے ہوئی ہے۔ اس واقعے سے واقف ایک کرکٹر نے بتایا کہ جموں کے کے سی اسپورٹس کلب میں جاری جموں و کشمیر چیمپئنز لیگ (جے کے سی ایل) میں فرقان بٹ جموں ٹریل بلزرز کے خلاف مقامی ٹیم جے کے 11 کی نمائندگی کر رہا تھا۔ یہ ٹورنامنٹ 29 دسمبر 2025 کو شروع ہوا اور سرکاری طور پر ریاستی کرکٹ باڈی سے وابستہ نہیں ہے۔
اس مقابلے کا ایک ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے جس میں بٹ کو فلسطینی پرچم کا اسٹیکر لگا ہیلمٹ پہنے دکھایا گیا ہے۔ اس ویڈیو کے وائرل ہوتے ہی جموں میں صارفین کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے اور کھلاڑی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔
ٹورنامنٹ سے وابستہ کرکٹر نے کہا کہ، "ویڈیو فوری طور پر وائرل ہو گیا اور جموں میں بہت سے نیٹیزنز نے کارروائی کا مطالبہ کیا۔”
آن لائن ردعمل کے بعد، جموں پولیس نے کرکٹر اور ٹورنامنٹ کے منتظم، زاہد بٹ کو پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا۔ پولیس حکام نے بتایا کہ فرقان بٹ کو جموں دیہی پولیس نے میچ کے دوران فلسطینی پرچم کی نمائش کے پیچھے کا مقصد اور ارادے کا پتہ لگانے کے لیے طلب کیا تھا۔
جموں کشمیر پولیس نے اس معاملے میں ایک بیان جاری کیا ہے۔ پولیس نے کہا کہ، گزشتہ روز سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں پلوامہ کے ٹینگہ پونہ کے رہائشی فرقان الحق ولد تجمل حسین بٹ کے کے سی ڈور، مٹھی میں کرکٹ کھیلتے ہوئے اپنے ہیلمٹ پر فلسطین کا لوگو آویزاں کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ معاملے کی حساسیت اور اس کے امن عامہ کے ممکنہ مضمرات کے پیش نظر، سیکشن بی این ایس ایس 173(تین) کے تحت 14 دن کی ابتدائی انکوائری پی ایس ڈومانا میں شروع کی گئی ہے تاکہ حقائق، ارادہ، فرد کا پس منظر اور کسی بھی ممکنہ تعلق کا پتہ لگایا جا سکے۔
کسی ملک کا جھنڈا یا لوگو اپنے لباس پر چسپاں کرنا کوئی جرم نہیں ہے اور سرکوری طور بھارت فلسطینی ریاست کا حلیف رہا ہے اور اسکے ساتھ سفارتی تعلقات بھی ہیں۔
ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ "کھلاڑی کو اس فعل کے ارادے اور سیاق و سباق کا تعین کرنے کے لیے طلب کیا گیا۔” پولیس اہلکار نے مزید کہا کہ، "ہم ایونٹ کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں، جس میں مناسب اجازت لینا اور منتظمین کا کردار شامل ہیں۔”
پولیس اہلکار نے مزید کہا کہ، "کرکٹر سے ابھی تک کے لیے پوچھ گچھ مکمل ہوگئی ہے، مزید تحقیقات جاری ہے۔”
کارروائی کے بڑھتے ہوئے مطالبات کے درمیان، جموں و کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن (جے کے سی اے) نے خود کو اس واقعے سے دور کرتے ہوئے کہا کہ اس کا ٹورنامنٹ یا اس میں ملوث کھلاڑی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
جے کے سی اے کے ایک اہلکار نے کہا، "جموں کشمیر چیمپئنز لیگ کا انعقاد جے کے سی اے کے ذریعے نہیں کیا جاتا، اور کھلاڑی اس ایسوسی ایشن سے وابستہ نہیں ہیں۔” اہلکار نے مزید کہا کہ، "جے کے سی اے کی جانب سے اس معاملے میں کسی طرح کی کارروائی شروع کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔”
اس واقعے پر شدید سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا۔ بھاجپا کے سینئر لیڈر اور جموں کے ایم ایل اے آر ایس پٹھانیہ نے اس واقعہ کو "غیر مہذب” قرار دیا اور الزام لگایا کہ کرکٹ گراؤنڈ کو سیاسی پیغام رسانی کے لیے استعمال کیا جانا غلط ہے۔
پٹھانیہ نے مزید کہا، ’’کشمیر کے ایک مقامی کرکٹر کو اپنے کرکٹ ہیلمٹ پر فلسطینی جھنڈا لگائے دیکھا گیا۔ انہوں نے کہا، "یہ یا تو تخریبی ایجنڈے کو فروغ دینے کے لیے کھیل کو ایک پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی عکاسی کرتا ہے یا ہندوستان کے سرکاری موقف سے مکمل لاپرواہی ظاہر کرتا ہے۔ ہم حکام سے اس معاملے کی تفصیلی تحقیقات کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔”
واضح رہے، اس سے قبل وادی سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں مذہبی جلوسوں یا اپنے مکان کی چھت پر فلسطینی پرچم لہرانے کو لے کر نوجوانوں کے خلاف پولیس کارروائیاں ہوئیں ہیں۔
کھلاڑیوں کی جانب سے فلسطین کے عوام کے ساتھ یکجہتی کے طور فلسطینی پرچم لہرانے یا پرچم کے عکس کو لباس پر چسپان کرنے کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں۔ غزہ میں اسرائیل کی جانب سے مبینہ نسل کشی کی مہم کے بعد ان واقعات میں کافی اضافہ دیکھنے میں ملا۔ یہ کھلاڑی دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی سے اپنے ضمیر کی آواز بلند کرتے ہیں۔







