امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: میرواعظ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق کو حکام نے مسلسل دوسرے جمعہ بھی خانہ نظر بند رکھا، جس کے باعث وہ جامع مسجد سرینگر میں نمازِ جمعہ اور خطبہ ادا نہ کر سکے۔ میرواعظ کو ان کی رہائش گاہ نگین سے جامع مسجد جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔
اس موقع پر میرواعظ کشمیر نے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا، جس میں انہوں نے حکومت پر اظہارِ رائے کو دبانے اور جمہوری حقوق محدود کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ سال 2026 کے پہلے جمعہ کے دن انہیں جامع مسجد میں موجود ہونا چاہیے تھا، مگر نظر بندی کے باعث وہ سوشل میڈیا کے ذریعے عوام سے مخاطب ہونے پر مجبور ہیں۔
میرواعظ نے کہا کہ ان کا کردار اقتدار کی سیاست نہیں بلکہ امن، بھائی چارے اور مفاہمت کی آواز بننا ہے۔ انہوں نے ماضی میں برصغیر کی قیادت کے ساتھ مذاکرات اور بات چیت کی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج بھی وہ مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے بات چیت کو ہی واحد راستہ سمجھتے ہیں۔
انہوں نے سال 2025 کے دوران پیش آئے مختلف واقعات، جن میں پہلگام سانحہ، بھارت-پاکستان کشیدگی، دہلی دھماکہ اور گھروں کی مسماری شامل ہیں، کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان حالات نے عوام میں خوف اور بے یقینی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ان کے مطابق مقامی قیادت، میڈیا اور سوشل میڈیا پر اظہارِ رائے کی آزادی کو سخت پابندیوں کا سامنا ہے۔
میرواعظ نے انکشاف کیا کہ ان پر دباؤ ڈالا گیا جس کے بعد انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پروفائل سے کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین کی شناخت ہٹا دی، کیونکہ حریت کی تمام اکائیوں پر یو اے پی اے کے تحت پابندی عائد ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا اب واحد ذریعہ رہ گیا ہے جس کے ذریعے وہ عوام تک اپنی آواز پہنچا سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ میرواعظ کشمیر کو گزشتہ جمعہ بھی نظر بند رکھا گیا تھا اور سال 2025 کے دوران انہیں متعدد بار جمعہ کے دن خانہ نظر بند کیا گیا، جس پر انہوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عوام میں گھٹن اور بے بسی کا سبب قرار دیا۔








