امت نیوز ڈیسک //
کٹھوعہ، 4 جنوری : مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی اور وزیر برائے ارضیاتی علوم ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اتوار کو کٹھوعہ میں ایک عوامی دربار سے خطاب کیا، جہاں انہوں نے خطے سے متعلق مختلف امور پر صحافیوں کے سوالات کے جواب بھی دیے۔
شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج میں داخلوں سے متعلق تنازعے پر ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ غالب امکان ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اس معاملے کو پہلے ہی حل کر لیا ہو، کیونکہ وہ شری ماتا ویشنو دیوی شرائن ٹرسٹ کے چیئرمین بھی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر، بطور چیئرمین ٹرسٹ، اس نوعیت کے معاملات کو سلجھانے کے مجاز ہیں اور جلد ہی اس حوالے سے واضح صورتحال سامنے آ جائے گی۔
خبر رساں ایجنسی کشمیر نیوز ٹرسٹ کے مطابق، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آبی وسائل کے انتظام پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کا پانی پاکستان جانے سے روکنے کے لیے حکمتِ عملی تیار کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اضافی پانی کو ملک کے اندر استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا، ’’ہم اس اضافی پانی کو ہریانہ، راجستھان یا خود جموں و کشمیر میں استعمال کریں گے، لیکن اسے پاکستان جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس سمت میں کام جاری ہے۔‘‘
مرکزی وزیر نے یہ بھی اعلان کیا کہ شمالی بھارت کا سب سے بڑا ہومیوپیتھی کالج کٹھوعہ میں قائم کیا جائے گا۔ ان کے مطابق یہ ادارہ خطے میں طبی تعلیم کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرے گا اور طلبہ کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گا۔
عوامی دربار میں مقامی لوگوں نے مختلف شہری اور ترقیاتی مسائل اٹھائے، جن پر متعلقہ افسران کو شکایات نوٹ کرنے اور ان کے ازالے کی ہدایت دی گئی۔(کے این ٹی)











