امت نیوز ڈیسک //
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر روس سے تیل کی خریداری کے معاملے پر بھارت کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے ہوئے ٹیرف میں اضافے کی دھمکی دی ہے۔ میڈیا سے بات کے دوران ٹرمپ نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی تعریف بھی کی، تاہم ساتھ ہی یہ عندیہ دیا کہ اگر بھارت نے روسی تیل کی درآمد جاری رکھی تو امریکہ سخت تجارتی اقدامات کر سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ روسی تیل کی درآمد کے معاملے پر بھارت کی جانب سے مطلوبہ تعاون نہیں مل رہا، جس کے باعث وہ اس موضوع پر کھل کر بات کرنے پر مجبور ہوئے۔ انہوں نے کہا، وزیراعظم مودی اچھے انسان ہیں۔ وہ جانتے تھے کہ میں اس معاملے پر خوش نہیں ہوں۔ وہ کاروبار کرتے ہیں، اور ہم بہت جلد ان پر محصولات بڑھا سکتے ہیں۔
ٹرمپ اس سے قبل بھی متعدد بار بھارت پر زور دے چکے ہیں کہ وہ روس سے تیل کی درآمد بند کرے اور امریکہ سے تیل خریدے۔ گزشتہ سال اگست میں انہوں نے روس سے تیل کی خریداری کو جواز بنا کر 2025 میں بھارت پر ٹیرف 50 فیصد تک بڑھانے کا عندیہ دیا تھا۔
نئے سال کے آغاز پر ٹرمپ کے تازہ بیان کے بعد بھارت اور امریکہ کے تعلقات میں ایک بار پھر تناؤ دیکھا جا رہا ہے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے انہیں یقین دلایا ہے کہ بھارت آئندہ روس سے تیل درآمد نہیں کرے گا۔
تاہم اس دعوے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بھارتی حکومت نے واضح طور پر تردید کی ہے اور کہا ہے کہ امریکی صدر اور وزیر اعظم مودی کے درمیان اس حوالے سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔










