امت نیوز ڈیسک //
بجبہاڑہ، 7 جنوری: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بدھ کے روز وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ عوام کو براہِ راست متاثر کرنے والے اہم مسائل، خاص طور پر زمین کے حصول اور باغبانوں کے خدشات پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
اپنے والد اور سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کی برسی کے موقع پر بجبہاڑہ میں خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے، خبر رساں ایجنسی کشمیر نیوز آبزرور کے مطابق، کہا کہ عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے عمر عبداللہ صرف پی ڈی پی کے خلاف بیانات دینے میں مصروف ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’ان کے پاس واضح اکثریت ہے، ان کی جماعت کے ارکان راجیہ سبھا اور لوک سبھا دونوں میں موجود ہیں، اس کے باوجود وہ غریبوں کو متاثر کرنے والے مسائل پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔‘‘
محبوبہ مفتی نے دعویٰ کیا کہ عمر عبداللہ عام کشمیریوں کے لیے زمین اور باغات کی جذباتی اور معاشی اہمیت کو نہیں سمجھتے۔ انہوں نے کہا، ’’انہیں معلوم ہی نہیں کہ ایک غریب خاندان کے لیے باغ یا زمین کے ایک ٹکڑے کی کیا قدر و قیمت ہوتی ہے، اسی لیے وہ ان مسائل پر خاموش ہیں اور ان لوگوں کے حق میں آواز نہیں اٹھاتے جن کا روزگار داؤ پر لگا ہوا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر میں بے روزگاری اور عوامی بیگانگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، یہاں تک کہ پلوامہ کے ایک ڈاکٹر نے خودکشی کی اور دہلی میں چند بے گناہ افراد کی جانیں گئیں، مگر اس کے باوجود عمر عبداللہ کی حکومت سنگین مسائل پر خاموش ہے۔
محبوبہ مفتی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کشمیر میں ریلویز اور دیگر بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کے لیے زمین حاصل کرنے سے پہلے مقامی نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی عوام کے روزگار اور وقار کی قیمت پر نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے زور دیا کہ کشمیر میں ہزاروں خاندانوں، خاص طور پر باغبانوں اور چھوٹے کسانوں کے لیے زمین ہی واحد ذریعۂ معاش ہے، اس لیے زمین لینے کے کسی بھی فیصلے کے ساتھ متاثرہ مقامی لوگوں کے لیے روزگار اور بازآبادکاری کی ٹھوس یقین دہانی لازمی ہونی چاہیے۔
محبوبہ مفتی نے کہا، ’’ریلویز یا کسی بھی دوسرے منصوبے کے لیے زمین کا ایک انچ بھی لینے سے پہلے حکومت کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ تمام بے روزگار نوجوانوں اور ہر متاثرہ خاندان کو روزگار ملے۔ یہاں زمین محض جائیداد نہیں بلکہ غریب خاندانوں کے لیے شناخت، ذریعۂ معاش اور بقا ہے۔‘‘









