امت نیوز ڈیسک //
جموں، 8 جنوری : جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج کی منظوری منسوخ کیے جانے کو طلبہ کے ساتھ صریح ناانصافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے سے اُن قابل طلبہ کو نقصان پہنچا ہے جنہوں نے نیٹ امتحان میرٹ پر پاس کر کے داخلہ حاصل کیا تھا۔
جمعرات کو جموں میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ طلبہ کو ایسے عوامل کی سزا نہیں دی جانی چاہیے جو اُن کے قابو میں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ متاثرہ طلبہ کے تعلیمی مستقبل کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے کہا،
“طلبہ نے نیٹ امتحان میرٹ پر کامیاب کیا ہے۔ یہ ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم انہیں متبادل فراہم کریں، اور ہم ایسا کریں گے۔ طلبہ کو اُن کے گھروں کے قریب کسی میڈیکل کالج میں ایڈجسٹ کیا جائے گا تاکہ اُن کی تعلیم متاثر نہ ہو۔”
وزیر اعلیٰ نے تاہم اس بات پر زور دیا کہ اصل مسئلہ ایک فعال میڈیکل کالج کو بند کیے جانے کی صورت میں پیدا ہونے والی ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں طلبہ برسوں کی محنت کے بعد میڈیکل کالج میں داخلہ حاصل کرتے ہیں، ایسے میں ایک چلتے ہوئے ادارے کو بند کرنا نہایت تشویشناک ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا،“شاید ہم ملک کا واحد خطہ ہیں جہاں ایک مکمل طور پر فعال میڈیکل کالج کو بند کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں انتہائی مایوس کن پیغام دیتا ہے جب ملک کو زیادہ ڈاکٹروں اور مضبوط صحت نظام کی ضرورت ہے۔”
انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت طلبہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی۔ [کے این ٹی]










