امت نیوز ڈیسک//
جموں و کشمیر میں ’’ریاستی و ملکی سالمیت کو لاحق خطرات‘‘ کے پیش نظر لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ نے ملی ٹنٹوں کی مدد کے الزام میں مزید پانچ سرکاری ملازمین کو نوکریوں سے برطرف کر دیا ہے۔ منگل کو جاری کیے گئے حکمنامے کے مطابق ان ملازمین کو آئینِ ہند کے آرٹیکل 311(2)(C) کے تحت سرکاری ملازمت سے ہٹا دیا گیا ہے۔
برطرف کیے گئے ملازمین میں ایک سرکاری استاد، محکمہ صحت و طبی تعلیم کا ایک لیب ٹیکنیشن اور ایک ڈرائیور، محکمہ جل شکتی کا ایک اسسٹنٹ لائن مین اور محکمہ جنگلات کا ایک فیلڈ ورکر شامل ہیں۔
ان تازہ برطرفیوں کے بعد 2021 سے اب تک آرٹیکل 311 کے تحت سرکاری ملازمت سے برطرف کیے گئے ملازمین کی تعداد 85 سے تجاوز کر گئی ہے۔
ادھر حکومت نے حال ہی میں نجی اداروں کو بھی ہدایت دی ہے کہ وہ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کو ملازمت یا کام دینے سے قبل پولیس سے ان کے ریکارڈ کی لازمی تصدیق کرائیں، جس کے نتیجے میں برطرف ملازمین کے لیے نجی شعبے میں بھی روزگار کے مواقع تقریباً ختم ہو گئے ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ کے مطابق یہ اقدامات ’’سرکاری نظام سے ملی ٹنٹ اثر و رسوخ ختم کرنے اور انتظامیہ کی ساکھ و شفافیت کو مضبوط بنانے‘‘ کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ برطرفی کے احکامات میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ان کارروائیوں پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
حکمنامے کے مطابق تحقیقات میں ان ملازمین کے لشکرِ طیبہ اور حزب المجاہدین جیسی ممنوعہ قرار دی گئی ملی ٹنٹ تنظیموں کے ساتھ روابط سامنے آئے ہیں۔
محکمہ تعلیم کے استاد محمد اسحاق کو لشکرِ طیبہ سے وابستہ بتایا گیا ہے، جس کے پاکستان میں موجود تنظیمی کمانڈروں سے مسلسل رابطوں کا الزام ہے۔ اس پر جموں کے ڈوڈہ میں ایک پولیس افسر کے قتل کی سازش میں شامل ہونے کا بھی الزام ہے، اور اسے اپریل 2022 میں گرفتار کیا گیا تھا۔
محکمہ صحت کے لیب ٹیکنیشن طارق احمد راہ پر حزب المجاہدین کے ساتھ روابط اور ایک مطلوب ملی ٹنٹ کو پاکستان پہنچانے میں مدد دینے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
محکمہ پی ایچ ای کے اسسٹنٹ لائن مین بشیر احمد میر کے گھر پر 2021 میں دو لشکرِ طیبہ کے ملی ٹنٹ مارے گئے تھے۔ تحقیقات کے مطابق وہ گریز ویلی میں تنظیم کا اوور گراؤنڈ ورکر تھا۔
اننت ناگ میں محکمہ جنگلات کے فیلڈ ورکر فاروق احمد بٹ پر بھی حزب المجاہدین سے وابستگی کا الزام ہے۔ وہ ایک سابق رکن اسمبلی کا ذاتی معاون بھی رہ چکا ہے۔ تفتیشی حکام کے مطابق اس نے سرکاری شناختی کارڈ کا استعمال کرتے ہوئے ایک مطلوب ملی ٹنٹ کو چیک پوسٹوں سے گزار کر اٹاری–واہگہ سرحد تک پہنچایا۔ فاروق کو 2024 میں گرفتار کیا گیا اور 2025 میں ضمانت ملی، تاہم حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ وہ اب بھی ملی ٹنٹوں اور ان کے ہمدردوں سے رابطے میں ہے۔
اسی طرح محکمہ صحت کے ڈرائیور محمد یوسف پر ملی ٹنٹوں سے مسلسل رابطے اور جیل میں بند ملی ٹنٹوں کو پاکستان سے رابطے کے لیے موبائل فون فراہم کرنے والے نیٹ ورک کی مدد کا الزام ہے۔









