امت نیوز ڈیسک //
جموں : جموں کے کنونشن سینٹر میں بدھ کو ایک اعلیٰ سطح کا سیکورٹی جائزہ اجلاس شروع ہوا جس کی صدارت مرکزی وزیر داخلہ کے سیکریٹری گووند موہن نے کی۔ معلوم ہوا ہے کہ اس میٹنگ میں خفیہ اداروں کے سربراہان بھی موجود ہیں اور خبر نشر ہونے تک یہ میٹنگ جاری تھی۔
ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ میٹنگ میں جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری اتل ڈلو، ڈی جی پی نالین پربھات، اسپیشل ڈی جی پی ایس جے ایم گیلانی، جموں و کشمیر کے ہوم سیکریٹری چندرکانت بھارتی، اے ڈی جی پی سی آئی ڈی نتیش کمار، مرکزی نیم فوجی دستوں کے سربراہان اور جموں و کشمیر پولیس کی مقامی انٹیلی جنس یونٹس کے دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔
مختلف ذرائع سے حاصل تفصیلات کے مطابق اجلاس میں جموں و کشمیر کی مجموعی سیکورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، خاص طور پر پاکستانی ڈرونز اور یو اے ویز کے ذریعے دراندازی کی کوششوں پر بھی غور کیا گیا۔
گزشتہ ایک ہفتے سے بین الاقوامی سرحد اور ایل او سی پر پاکستان ڈرون کے ذریعے دراندازوں اور ہتھیاروں کو بھیجنے کی کوشش کر رہا ہے، جس پر جائزہ اجلاس کے دوران خصوصی توجہ دی گئی۔ دراندازی کے متعلق انسدادی اقدامات اور انسداد دراندازی گرڈ کو مزید مضبوط بنانے کے بارے میں بھی سیکورٹی میٹنگ کے دوران جائزہ لیا گیا۔ مرکزی داخلہ سیکریٹری اور آئی بی کے ڈائریکٹر بھی کل بین الاقوامی سرحد کا دورہ کریں گے۔
جموں کے علاقوں میں انسداد ملی ٹنسی آپریشنز بھی زیر بحث آئے تاہم، ابھی تک پولیس کی جانب سے اس سیکیورٹی جائزہ اجلاس کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ دریں اثناء، فوج اور بی ایس ایف نے پہلے ہی ایل او سی اور آئی بی کے ساتھ دراندازی کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے انتہائی ہائی الرٹ رکھا ہوا ہے۔
فوج کے اعلیٰ کمانڈر کل سے سرحدی ضلع راجوری میں ہیں جن میں لیفٹیننٹ جنرل پراتیک شرما، آرمی کمانڈ کے ناردرن کمانڈر، لیفٹیننٹ جنرل پی کے مشرا، جی او سی وائٹ نائٹ کور شامل ہیں۔










