امت نیوز ڈیسک //
جموں، 15 جنوری:کابینہ وزیر ستیش شرما نے جمعرات کے روز بیوروکریسی کے بعض حلقوں کے خلاف سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے ان پر تکبر، رکاوٹیں کھڑی کرنے اور منتخب حکومت کے اختیارات کو تسلیم نہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر میں دو پاور سینٹرز کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
جموں و کشمیر روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن میں ہمدردانہ تقرریوں میں طویل تاخیر سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ستیش شرما نے تسلیم کیا کہ ایس او 12 کے نفاذ نہ ہونے اور مسلسل بیوروکریٹک رکاوٹوں کے باعث کافی عرصے سے ایسی کوئی تقرری عمل میں نہیں آ سکی۔
کشمیر نیوز ٹرسٹ کے مطابق، وزیر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اس معاملے پر خصوصی میٹنگز کر چکے ہیں اور یقین دہانی کرائی ہے کہ ایس او 12 کو جلد نافذ کیا جائے گا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بعض افسران اب بھی 2019 کے بعد کے ماحول میں سوچ رہے ہیں اور منتخب حکومت کی واپسی کو ہضم نہیں کر پا رہے۔
ستیش شرما نے کہا،“کچھ بیوروکریٹس انا کے نشے میں ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ وہی نظام چلا رہے ہیں۔ انہیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ہر چیز کی ایک میعاد ہوتی ہے۔ نہ جموں و کشمیر ہمیشہ یونین ٹیریٹری رہے گا اور نہ ہی کوئی افسر ہمیشہ حکمرانی کرے گا۔ صرف اللہ تعالیٰ ہی دائمی ہے اور ہم سب اپنے اعمال کے لیے اس کے سامنے جواب دہ ہیں۔”
انہوں نے افسران کو متنبہ کیا کہ وہ اہل نوجوانوں کے مستقبل سے نہ کھیلیں۔ وزیر کے مطابق ایس او 12 کے تحت ہمدردانہ تقرری کے حق دار بچوں کو بیوروکریٹک تاخیر اور ذاتی انا کی بھینٹ نہیں چڑھایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے معاملات میں رکاوٹ ڈالنا محض انتظامی بدعنوانی نہیں بلکہ ایک اخلاقی ناکامی بھی ہے۔
ستیش شرما نے الزام لگایا کہ کچھ عناصر منتخب حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور وہ کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود سیاسی طاقت حاصل نہ کر پانے پر مایوس ہیں۔ انہوں نے کہا،
“دو پاور سینٹرز نہیں ہو سکتے۔ یہ قطعی ممکن نہیں ہے۔ وقت بدلے گا اور وہ دن دور نہیں جب یہ عناصر بے نقاب ہوں گے اور ان کے پاس دکھانے کے لیے کوئی چہرہ نہیں ہوگا۔”
وزیر نے میڈیا اداروں سے بھی اپیل کی کہ وہ منصفانہ اور غیر جانبدار کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کو سماج کو جوڑنے والی طاقت بننا چاہیے، نہ کہ کسی سیاسی یا طاقتور طبقے کا آلہ کار۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے ستیش شرما نے کہا کہ عمر عبداللہ جیسا سیکولر لیڈر آج کے دور میں کوئی نہیں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ شمولیت، جمہوری اقدار اور عوامی جواب دہی کے حوالے سے وزیر اعلیٰ کی قیادت کی کوئی مثال نہیں ملتی۔
[کے این ٹی]











