امت نیوز ڈیسک //
واشنگٹن، 18 جنوری : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی دہائیوں پر محیط حکمرانی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو نئی قیادت کی ضرورت ہے، کیونکہ ملک مسلسل عوامی بدامنی، معاشی بحران اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سامنا کر رہا ہے۔
ہفتہ کے روز ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ حالیہ مظاہروں کے بعد “ایران میں نئی قیادت کا وقت آ گیا ہے۔” انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایرانی قیادت تشدد اور خوف کے ذریعے اقتدار برقرار رکھنا چاہتی ہے اور اختلافِ رائے کو بے رحمی سے کچلا جا رہا ہے۔
مبینہ پھانسیوں کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی حکومت کا حالیہ دنوں میں 800 سے زائد افراد کو پھانسی نہ دینے کا فیصلہ ہی اس کا “بہترین اقدام” تھا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ قیادت ملک کو تباہی کی طرف لے جا رہی ہے اور عوامی جان و مال کا تحفظ کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔
ٹرمپ نے خامنہ ای کو “بیمار آدمی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی موجودہ سنگین صورتحال براہِ راست ان کی قیادت کا نتیجہ ہے، اور یہ ملک حکمرانوں کی پالیسیوں کے باعث “رہنے کے لیے بدترین جگہ” بنتا جا رہا ہے۔
ادھر ٹرمپ کے بیانات، خامنہ ای کے اس الزام کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں انہوں نے ایران میں جاری احتجاج کے لیے امریکہ اور اسرائیل کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ خامنہ ای نے کہا تھا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، تاہم ملک کے اندر اور باہر بدامنی پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی سے گریز نہیں کیا جائے گا۔










