امت نیوز ڈیسک //
کشتواڑ، 19 جنوری : ضلع کشتواڑ کے چھاترو جنگلاتی علاقے میں پیر کے روز بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن جاری ہے، جہاں اتوار کی رات جنگجوؤں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان تصادم ہوا تھا، حکام نے بتایا۔
سکیورٹی فورسز نے پورے جنگلاتی علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے، کیونکہ خدشہ ہے کہ جنگجو اب بھی علاقے میں چھپے ہو سکتے ہیں۔ دشوار گزار اور پہاڑی خطے کو مدنظر رکھتے ہوئے اضافی نفری تعینات کی گئی ہے اور آپریشن انتہائی احتیاط کے ساتھ انجام دیا جا رہا ہے۔
فضائی نگرانی کے لیے فوجی ہیلی کاپٹروں کی خدمات لی جا رہی ہیں، جبکہ ممکنہ نقل و حرکت کے راستوں کا پتہ لگانے کے لیے سنفر ڈاگز کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ کشتواڑ ضلع کی اہم سڑکوں پر متعدد ناکے قائم کر دیے گئے ہیں، تلاشی کا عمل تیز کر دیا گیا ہے اور گاڑیوں کو روک کر چیک کیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق ایلیٹ پیرا یونٹس کے علاوہ 11 راشٹریہ رائفلز اور 17 راشٹریہ رائفلز کے جوان بھی اس آپریشن میں سرگرم عمل ہیں۔
حکام نے بتایا کہ اتوار کی رات مخصوص خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر جب سکیورٹی فورسز نے چھاترو علاقے میں جنگجوؤں سے رابطہ قائم کیا تو تصادم شروع ہو گیا۔ ابتدائی فائرنگ کے دوران ایک گرینیڈ دھماکے کی بھی اطلاع ہے۔
رات بھر جاری فائرنگ کے دوران آٹھ فوجی اہلکار زخمی ہو گئے، جنہیں موقع سے نکال کر طبی مراکز منتقل کیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام زخمی اہلکاروں کی حالت مستحکم ہے۔
ابتدائی فائرنگ اور گرینیڈ دھماکے کے بعد فائرنگ رک گئی، تاہم سکیورٹی فورسز نے محاصرہ برقرار رکھا اور پیر کے روز منظم انداز میں سرچ آپریشن شروع کیا، جو تاحال جاری ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ علاقے کو مکمل طور پر کلیئر کیے جانے تک آپریشن جاری رہے گا۔ مزید تفصیلات سرچ آپریشن کی پیش رفت کے ساتھ سامنے آئیں گی۔








