امت نیوز ڈیسک ///
کشتواڑ، 20 جنوری: کشتواڑ کے چھترو علاقے کے سونار جنگل میں جاری تصادم منگل کو مسلسل تیسرے دن میں داخل ہو گیا، جہاں مشترکہ سیکورٹی فورسز گھنے جنگلات میں بڑے پیمانے پر تلاشی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم اب تک کسی تازہ فائرنگ یا براہِ راست تصادم کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
سینئر حکام کے مطابق مشتبہ ٹھکانوں پر نظر رکھنے کے لیے ڈرونز اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے فضائی نگرانی جاری ہے تاکہ کسی بھی مشتبہ نقل و حرکت کا سراغ لگایا جا سکے۔ مختلف یونٹوں سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں اہلکار جنگل کے اندر گہرائی تک پھیلے ہوئے ہیں اور پیدل وسیع علاقوں کی تلاشی لے رہے ہیں، جبکہ سونگھنے والے کتوں کی مدد سے اُن مخصوص مقامات کی جانچ کی جا رہی ہے جہاں جنگجوؤں کے چھپے ہونے کا اندیشہ ہے۔
علاقے کو سخت سیکورٹی حصار میں رکھا گیا ہے۔ کسی بھی ممکنہ فرار کو روکنے کے لیے چھترو اور ملحقہ راستوں پر ناکہ بندی، گاڑیوں کی چیکنگ اور تلاشی کا سلسلہ جاری ہے۔ ولیج ڈیفنس گارڈز کو بھی فورسز کی مدد کے لیے شامل کیا گیا ہے، جو جنگل کے اطراف گشت کر رہے ہیں اور حساس بستیوں میں نگرانی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ ابتدائی جھڑپ کے بعد فائرنگ کا کوئی نیا واقعہ پیش نہیں آیا، تاہم کارروائی ختم نہیں کی گئی ہے کیونکہ انٹیلی جنس اطلاعات کے مطابق علاقے میں جنگجوؤں کی موجودگی کا خدشہ برقرار ہے۔ دشوار گزار پہاڑی علاقے اور گھنی جھاڑیوں کے باعث تلاشی ٹیمیں انتہائی احتیاط کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں۔
ابتدائی تصادم کے دوران آٹھ سیکورٹی اہلکار زخمی ہوئے تھے، جن میں پیرا ٹروپر گجندر سنگھ بھی شامل تھے، جو بعد میں علاج کے دوران زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ علاقے کو مکمل طور پر محفوظ بنانے تک آپریشن جاری رہے گا۔ مقامی لوگوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ گھروں میں ہی رہیں اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ تعاون کریں۔ [کے این ٹی]











