امت نیوز ڈیسک //
جموں، 20 جنوری : نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے منگل کے روز کہا کہ لداخ جلد یا بدیر دوبارہ جموں و کشمیر کا حصہ بنے گا، کیونکہ ان کے بقول 2019 میں کیے گئے فیصلے پر اب وہاں کے لوگ پچھتا رہے ہیں۔
جموں میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا کہ یونین ٹیریٹری لداخ کی تشکیل کے بعد وہاں کے عوام میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے اور اب یہ آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ لداخ کو دوبارہ جموں و کشمیر کے ساتھ ضم کیا جائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ لداخ کے لوگ اب کھل کر اس خواہش کا اظہار کر رہے ہیں۔
جموں کے لیے علیحدہ ریاست کے مطالبے پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس طرح کے مطالبات کرنے والوں کو زمینی حقائق کی سمجھ نہیں ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ سیاسی بنیادوں پر خطوں کی تقسیم سے جموں و کشمیر کا مجموعی ڈھانچہ کمزور ہوگا۔
پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کی جانب سے چناب ویلی اور پیر پنجال میں نئے اضلاع کے مطالبے پر فاروق عبداللہ نے اسے صاف طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر میں پہلے ہی کافی اضلاع موجود ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کچھ لوگ ڈکسن پلان جیسے نظریات کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہوں گے۔
ہمسا یہ ممالک سے تعلقات پر بات کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا کہ پڑوسی تبدیل نہیں کیے جا سکتے اور خطے میں موجود کئی مسائل کا ذمہ دار انہوں نے “پاکستان فوبیا” کو قرار دیا۔
محبوبہ مفتی کے بے روزگاری سے متعلق بیانات پر ردِعمل دیتے ہوئے فاروق عبداللہ نے ان کے وزیر اعلیٰ کے دورِ اقتدار پر سوال اٹھایا اور پوچھا کہ انہوں نے اپنے دور میں بے روزگاری کے مسئلے کے حل کے لیے کون سے ٹھوس اقدامات کیے تھے۔
بین الاقوامی امور پر بات کرتے ہوئے، سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مبینہ طور پر وزیر اعظم نریندر مودی کو غزہ امن منصوبے سے متعلق بات چیت کی دعوت کے سوال پر فاروق عبداللہ نے کہا کہ بھارت اور ٹرمپ کے تعلقات قریبی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ عالمی سطح پر پیدا ہونے والی تلخی وقت کے ساتھ ختم ہو جائے گی۔










