اُمت ڈیسک رپورٹ
شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ سے تعلق رکھنے والے 29 برس کے نرس(ہیلتھ کیئر ورکر)امجد علی بٹ تقریباً تین ماہ تک سعودی عرب میں زیرِ حراست رہنے کے بعد بحفاظت اپنے گھر واپس پہنچ گئے ہیں۔ ان کی رہائی کو وزارتِ خارجہ کی سفارتی کوششوں کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم سعودی حکام نے اب تک ان کی گرفتاری یا رہائی کی وجوہات کے بارے میں کوئی باضابطہ وضاحت جاری نہیں کی۔
امجد علی بٹ، جو پٹن کے گنڈ ابراہیم علاقے کے رہنے والے ہیں، جون 2025 سے دمام سعودی عرب میں قائم ایک طبی ادارے’’سعودی ریسپانس پلس میڈیکل‘‘ میں اسپیشلسٹ نرس کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ ان کے اہل خانہ کے مطابق 25 مارچ 2026 کو سعودی سِول ڈیفنس کے اہلکار انہیں ان کے جائے ملازمت سے پوچھ گچھ کے لیے لے گئے، لیکن اس کے بعد کئی ہفتوں تک ان کے بارے میں کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
اہلِ خانہ پر قیامت گزر گئی
اہل خانہ کے مطابق ابتدائی دو دن تک ان کا موبائل فون مسلسل بند رہا۔ بعد میں ایک ساتھی ملازم نے اطلاع دی کہ امجد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ان کی بہن شاہدہ اختر نے میڈیا نمائندوں کوبتایا کہ اس خبر کے بعد والدہ شدید صدمے سے نڈھال ہوگئیں اور پورا خاندان شدید ذہنی اذیت میں مبتلا رہا۔
خاندان کے مطابق امجد جون میں اپنی بہن کی شادی میں شرکت کے لیے کشمیر آنے والے تھے، مگر گرفتاری کے باعث شادی بھی مؤخر کرنا پڑی۔ کئی ماہ تک نہ ان سے رابطہ ممکن ہو سکا اور نہ ہی سعودی حکام کی جانب سے ان کی قانونی حیثیت یا الزامات کے بارے میں کوئی باضابطہ اطلاع فراہم کی گئی۔
سوشل میڈیا پوسٹ کا ذکر، مگر سرکاری تصدیق نہیں
مختلف ذرائع اور جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے مطابق امجد علی بٹ سے تفتیش کے دوران ایک فیس بک پوسٹ کے بارے میں سوالات کیے گئے تھے، جو انہوں نے مارچ 2026 کے اوائل میں ایران کے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے متعلق شیئر کی تھی۔
تاہم یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ سعودی حکام نے کبھی بھی سرکاری طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ ان کی گرفتاری کا تعلق اسی سوشل میڈیا پوسٹ سے تھا، نہ ہی ان کے خلاف کسی مقدمے یا الزامات کی تفصیلات جاری کی گئیں۔اس لیے گرفتاری کی اصل وجوہات اب بھی غیر واضح ہیں۔
وزارتِ خارجہ کی سفارتی مداخلت
جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے قومی کنوینر ناصر خوہامی کے مطابق تنظیم نے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر، وزارتِ خارجہ اور ریاض میں واقع بھارتی سفارت خانے سے فوری مداخلت کی اپیل کی تھی۔ تنظیم نے قونصلر رسائی، قانونی معاونت اور امجد کی جلد رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق وزارتِ خارجہ کی مسلسل سفارتی کوششوں کے بعد 25 جون کو سعودی حکام نے امجد کی رہائی کا فیصلہ کیا اور بعد ازاں انہیں ریاض اور نئی دہلی کے راستے کشمیر واپس بھیج دیا گیا۔
خاندان کا اظہارِ تشکر
امجد کے اہل خانہ نے ان کی بحفاظت واپسی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزارتِ خارجہ، سعودی عرب میں بھارتی سفارت خانے، عوامی نمائندوں اور تمام معاونین کا شکریہ ادا کیا۔ خاندان کا کہنا ہے کہ اس تلخ تجربے کے بعد وہ فی الحال امجد کو دوبارہ سعودی عرب بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔
واپسی کے بعد امجد اور ان کے اہل خانہ نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو سے گریز کیا ہے اور ان کی گرفتاری یا رہائی کے بارے میں مزید تفصیلات شیئر نہیں کیں۔
کشمیری تارکینِ وطن کے لیے سبق
یہ واقعہ بیرونِ ملک مقیم کشمیری اور دیگر بھارتی کارکنوں کے لیے اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ مختلف ممالک میں سوشل میڈیا کے استعمال، مقامی قوانین اور حساس سیاسی و مذہبی معاملات سے متعلق ضوابط ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک مقیم افراد کو اظہارِ رائے اور سوشل میڈیا سرگرمیوں کے دوران متعلقہ ملک کے قوانین اور ضوابط سے مکمل آگاہی رکھنی چاہیے تاکہ کسی بھی غیر متوقع قانونی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔
امجد علی بٹ کی بحفاظت واپسی اگرچہ ان کے اہل خانہ کے لیے ایک بڑی خوشی اور راحت کا باعث بنی ہے، لیکن ان کی گرفتاری، حراست اور رہائی کے پس منظر سے متعلق کئی سوالات اب بھی جواب طلب ہیں، کیونکہ سعودی حکام نے اس معاملے پر کوئی سرکاری وضاحت جاری نہیں کی ہے۔










