جموں وکشمیر کے سابق گورنر ستیہ پال ملک آئے روز کچھ نہ کچھ گل افشانیاں فرماتے رہتے ہیں اور کشمیر کی سیاست پر ان کے بیانات ہمیشہ دھماکے دار ہوا کرتے ہیں۔ ویسے بھی کوئی کشمیری موصوف کو گورنر ہاوس کی فیکس مشین خرابی اسکینڈل کےلئے فراموش نہیں کرسکتا لیکن بالفرض محال اگر کبھی ایسا ہو بھی جائے تو موصوف اپنے بیانات سے اس نسیان کو فرو کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں۔ کچھ عرصہ ہوا کہ کشمیریوں کے ذہن و دل سے موصوف کی پرچھائیاں کچھ کچھ دھندلا رہی تھیں لیکن پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد لون پر نشانہ سادھ کر موصوف نے اپنی موجودگی کا اعلان فرمادیا۔ستیہ پال ملک جو آجکل میگھالیہ کے گورنر ہیں‘ نے”دی وائر“ نامی ویب پورٹل کو انٹرویو میں جن باتوں کا انکشاف کیا ہے وہ اگرچہ کچھ انہونی نہیں ہیں لیکن اس کے لئے جو وقت موصوف نے تلاش کیا ہے وہ ضرور لائق التفات ہے۔
مذکورہ انٹرویو میں ستیہ پال ملک نے کہا کہ سجاد لون دراصل وزیر اعظم مودی کے چہیتے ہیں اور یہ کہ وہ2018ءمیں صرف6 ممبران ہونے کے باوجود وزارت اعلی کے دعویدار تھے۔ موصوف کا کہنا ہے کہ2018ءمیں اسمبلی تحلیل ہونے سے کچھ دیر پہلے پیپلز کانفرنس کے رہنما سجاد لون وزیر اعلیٰ بننا چاہتے تھے۔ تاہم ان کے پاس صرف چھ ایم ایل اے تھے۔ ملک نے کہا کہ انہوں نے لون سے کہا تھا کہ وہ انہیں خط لکھ کر آگاہ کریں کہ انہیں87رکنی ایوان میں کتنے ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ لون نے کہا تھا کہ ان کے چھ ایم ایل اے ہیں۔ لیکن اگرگورنرحلف اٹھاتے ہیں تو ایک ہفتے میں اکثریت ثابت کر دیں گے۔ نومبر2018ءمیں اسمبلی کی تحلیل کے حالات کو بیان کرتے ہوئے،ستیہ پال ملک نے کہاکہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی سربراہ محبوبہ مفتی نے کانگریس اور نیشنل کانفرنس کے ساتھ اتحاد میں حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کیا تھا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے جون2018ءمیں اتحاد سے واک آو¿ٹ کیا۔ اس کے بعد محبوبہ مفتی کی قیادت والی پی ڈی پی،بی جے پی حکومت گر گئی۔ملک نے بتایا کہ انہوں نے لون سے کہا تھا کہ یہ گورنر کا کام نہیں ہے اور میں یہ نہیں کروں گا۔ سپریم کورٹ مجھے نہیں بخشے گی۔ کل سپریم کورٹ کہے گی کہ آپ نے ایوان کا اجلاس بلایا؟ تم ہار جاو گے، میں ایسا نہیں کروں گا۔“
ستیہ پال ملک نے انٹرویو میں مزیدکہا کہ پی ڈی پی،نیشنل کانفرنس،کانگریس اتحاد کو اکثریت حاصل ہو سکتی تھی۔ لیکن ان کی بیوقوفی یہ تھی کہ انہوں نے کوئی رسمی ملاقات نہیں کی۔ کوئی قرارداد منظور نہیں ہوئی۔ ستیہ پال ملک نے دی وائر کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس وقت کے مرکزی وزیر خزانہ اور اپنے گہرے دوست ارون جیٹلی کو بھی صورتحال سے آگاہ کیا تھا۔ ملک نے کہا کہ انہوں نے جیٹلی سے کہا تھا کہ اگر انہیں محبوبہ مفتی کا خط موصول ہوتا ہے جس میں حکومت بنانے کا دعویٰ کیا جاتا ہے تو وہ حلف دلانے کے پابند ہوں گے۔ ملک نے بتایا تھا کہ مرکزی حکومت نے انہیں کوئی مشورہ نہیں دیا ہے۔ ان سے کہا کہ وہ کریں جو وہ صحیح سمجھیں۔ اس کے بعد، انہوں نے نومبر2018ءمیں اسمبلی تحلیل کر دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ محبوبہ مفتی کانگریس اور نیشنل کانفرنس سمیت 65ایم ایل ایز کی حمایت سے گورنر کی رہائش گاہ پہنچنا چاہتی تھی۔ لیکن، اس حوالے سے ان کا خط نہیں پہنچ سکا۔ وجہ یہ تھی کہ جموں میں راج بھون کی فیکس مشین خراب تھی!
ست پال ملک کے اس انٹرویو بیان کے بعد سجاد لون کے بارے میں یہ تاثر کہ وہ بی جے پی کی بی ٹیم ہیں‘ کا تاثر اور گہرا گیا ہے اور ان کے حریفوں کا کہنا ہے کہ ملک کے انکشافات نے ثابت کر دیا ہے کہ حکومت بنانے کا ان کا دعویٰ کھوکھلا تھا۔ یہ بی جے پی اور مرکز کے اشارے پر کیا جا رہا تھا۔ ایسا اس لیے کیا گیا تاکہ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس اور کانگریس کی تشکیل کو حکومت بنانے سے روکا جاسکے۔ ستیہ پال ملک کا بیان آتے ہی سجاد لون کی جانب سے تیز و تند ردعمل آیا ہے۔اپنی فیملی کے ساتھ لندن کی سیر میں منہمک سجاد لون نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی میں لندن میں ہوتا ہوں یا لندن جارہا ہوتا ہوں، بھارت میںپیچھے ایک شخص ایسا ہے جو اسہال زبانی( Verbal Diarrhea)کا شکار ہوجاتا ہے۔ کرسی پر بیٹھا یہ شخص کشمیر میں قتل و غارت، گرفتاریوں اور آرٹیکل 370کو منسوخ کرنے میں اہم کردارہونے کے بدلے ایک طرف بے انتہا مراعات لے رہا ہے ، لیکن دوسری جانب پارسائی کا بھی دعویدار ہے وہ خطیب بننا چاہتا ہے۔ لون نے مزیدلکھا کہ کیا کوئی اس دائمی مریض زبانی اسہال کو بتائے گا کہ اسوقت کے دوران میں لندن میں ہوں۔ امید ہے کہ جب میں واپس آو¿ں گا تو ہمارے پاس بحث و تمحیص اور بات کرنے کے لیے بہت کچھ ہوگا۔ لون کا کہنا تھا کہ ابھی غیر ملکی ساحلوں پر ان کی ترجیح خاندان ہے۔
جانکار حلقوں کا کہنا ہے کہ سجاد لون کا شدید ردعمل شایدستیہ پال ملک کے اس دعوے پر ہوسکتا ہے کہ وہ اسے پی ایم مودی کا”نیلی آنکھوں والا لڑکا“ کہتے ہیں۔جب کہ پیپلزکانفرنس کے قائدنے4 201ئ کے اسمبلی انتخابات کے دوران بی جے پی کے ساتھ اتحاد کیا تھا اور مودی کو اپنا بڑا بھائی کہا تھا، جبکہ وہ اب بی جے پی سے الگ ہو گئے ہیں۔لون کا شدید غصہ ظاہر کررہا ہے کہ وہ اب بی جے پی کے ساتھ نام جڑنے کو پسند نہیں کرتے۔
ستیہ پال ملک کی سجاد لون پر لفظی بمباری کا جائزہ لیتے ہوئے یکایک ان دونوں شخصیات کے درمیان مماثلت کی جانب توجہ مبذول ہوجاتی ہے۔ یہ دونوں منہ پھٹ ہیں ہی لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کا سیاسی سفر نامہ بھی کئی انداز میں مماثل ہے۔جموںو کشمیر پر بی جے پی کے دیرینہ ایجنڈے کی تکمیل کا اہم ترین فریضہ نبھانے والے ستیہ پال ملک جس طرح سے بی جے پی میںلے پالک ہیں بالکل اسی طرح بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنا بڑا بھائی کہنے والے اور بی جے پی کے کوٹے پر ملنے والی وزارت کا مزا لینے والے سجاد لون بھی بی جے پی کے لئے محض ایک لے پالک ہی ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ2004ءمیں بی جے پی میں شامل ہونے سے پہلے ستیہ پال ملک کا متضاد سیاسی سفر رہا ہے۔سیاست میں ستیہ پال ملک بی جے پی میں شامل ہونے سے پہلے، مغربی اتر پردیش میں خود کو طاقت کے مراکز میں سے ایک کے طور پر قائم کرنے والی مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ رہے۔ انہوں نے خود کو کسان رہنما کے طور پر کھڑا کیا لیکن ماضی میں انہیں لمبی اننگز کھیلنے کے لیے کوئی پارٹی نہیں مل سکی۔ میرٹھ یونیورسٹی کے دنوں میں انہوں نے ایک سوشلسٹ لیڈر کے طور پر شہرت حاصل کی۔ مرکزی دھارے کی سیاست میں، وہ1974ءمیں سابق وزیر اعظم چودھری چرن سنگھ کی بھارتیہ کرانتی دل کے امیدوار کے طور پر ایم ایل اے بنے۔کئی سال بعد، ستیہ پال ملک چرن سنگھ کے بیٹے اجیت سنگھ کے خلاف بی جے پی کے امیدوار کے طور پر2004ءکا لوک سبھا الیکشن لڑا۔درمیان میں ستیہ پال ملک لوک دل، کانگریس اور جنتا دل کے بھی ساتھ رہے۔ وہ1984ءمیں کانگریس میں شامل ہوئے تھے، جس سال بہت سے لوگوں نے اس پارٹی سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ انہیں راجیہ سبھا کا رکن بنایا گیا۔ تاہم، انہوں نے بوفورس گھوٹالہ کے بعد کانگریس سے استعفیٰ دے دیا اور وی پی سنگھ کی قیادت والی جنتا دل کا ساتھ دیا۔ انہوں نے 1989ءمیں اتر پردیش کی علی گڑھ لوک سبھا سیٹ سے کامیابی حاصل کی۔2014ءکے لوک سبھا انتخابات میں کامیابی کے بعد، ستیہ پال ملک کو مودی حکومت میں وزیر بنایا گیا تھا۔ ان کے پاس وزیر مملکت کے طور پر پارلیمانی امور اور سیاحت جیسے قلمدان تھے۔ اکتوبر 2017ءمیں جب انہیں بہار کا گورنر بنایا گیا تو مسٹر ملک بی جے پی میں کسان مورچہ کے انچارج کے اہم عہدے پر فائز تھے۔کسانوں کی تنظیموں کے ساتھ ان کے روابط احتجاج کرنے والے کسانوں کی حمایت میں ان کے موقف کی وضاحت کرتے ہیں۔ تاہم، ان ریاستوں میں مقامی حکومتوں کے خلاف جیسے کام انہوں نے کئے اس کے بعد مودی حکومت کے خلاف ان کے غصے کا معاملہ حیرت انگیز طور پر نامعلوم ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کسان ایجی ٹیشن کے بعدوزیراعظم نریندرمودی کو خبط عظمت کی بیماری کا شکار انسان قرار دینے ،اور موجودہ حکومت پر بار بار تنقید کرنے اور اس حکومت کے سب سے بڑے مخالف کانگریس لیڈر راہل گاندھی کی تعریف کرنے کے باوجود،ستیہ پال ملک کو صرف ایک ریاست سے دوسری ریاست منتقل کیا گیا وہ سیاسی مبصرین کے لئے انتہائی حیران کن ہے۔
دوسری طرف سجاد لون کو لیں۔90ءکی دہائی میں موصوف عسکریت پسندوں کے مددگار کی حیثیت سے جیل یاترا بھی کرتے ہیں اور خود ایک انٹرویو میں جیل میں ہونے والی سختیوں کا بیان بھی دے چکے ہیں۔ اس کے بعد لندن اور بعد ازاں جے کے ایل ایف کے بانی مرحوم امان اللہ خان کی اکلوتی بیٹی کے ساتھ شادی بھی ان کی مزاحمتی ذہنیت کا عندیہ دیتی ہے۔ اپنے والد خواجہ عبدالغنی لون کے مشتبہ عسکریت پسندوں کے ہاتھوں قتل سے غصے میں آکر موصوف چناوی سیاست میں تشریف آور ہوئے اور سیاسی پنڈتوںکی مانیں تو ایک وقت میں موصوف شیڈو وزیراعلی بنے بیٹھے رہے۔ پھر ایک وقت آگیا کہ موصوف سید علی گیلانی کے گھر دعوت پر وارد ہوئے اور یو ٹرن لے کر پھر مزاحمت کاری کے گُر اپنانے لگ بیٹھے۔قرآن پاک پر قسمیں اُٹھانے کے باوجود جب یہاں پذیرائی نہیں ملی تو موصوف ایک بار پھرچناوی سیاست میں چلے گئے۔ اس دوران موصوف نے قابل حصول قومیت( Achievable Nationhood )نام سے ایک پیپر بھی شائع کیا جسے فی الحقیقت انکے ایک قابل قدر علمی کاوش کے طور پر تسلیم کیا جاسکتا ہے۔
سجاد لون کے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ صاحب صرف اور صرف ’اقتدار کا حصول‘ چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لئے یہ کسی بھی حد کو پار کرسکتے ہیں یہاں تک کہ انہوں نے اپنی پوری عمر مزاحمت کی نذر کردینے والے امان اللہ خان کی بیٹی تک کو الیکشنی سیاست وہ بھی بی جے پی کی حمایت والی سیاست کے لئے استعمال کیا! اس نکتہ نظر سے ماورا ، سجاد لون سے واقف کچھ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ موصوف برائی کی حد تک جذباتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سجاد لون اپنے والد کے قتل کے صدمے کو برداشت نہیں کرپائے اورچناوی سیاست میں صرف اپنا غصہ اُتارنے کی غرض سے کود پڑے۔بعدازاں وہ واپس آئے تو انہیں مزاحمتی کیمپ میں قبول نہیں کیا گیا جس نے انہیں واپس چناوی سیاست میں لااُتارا۔ ان لوگوں کا ماننا ہے کہ سجادلون ایک ہوشیار سیاست دان ہے اور اسے اپنے حلقہ اثر کا خوب علم ہے۔ اسے معلوم ہے کہ اگر اس نے سیاسی میدان میں باقی رہنا ہے تو اسے نیشنل کانفرنس، اور پی ڈی پی سے دوری بنائے رکھنا پڑے گی۔ دفعہ370 کی منسوخی کے بعد اب وہ بی جے پی سے بھی دور دکھنا چاہتے ہے۔ بہرحال سجاد لون‘ ستیہ پال ملک کی طرح کہ جومودی حکومت پر تنقید کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ہیں لیکن اقتدار کی لیلی سے بھی چمٹے ہوئے ہیں ،سجاد لون بھی مودی حکومت کے ساتھ کبھی ہاں اور کبھی نا کی گومگو والی کیفیت میں نظر آتے ہیں۔انہیں فی الحقیقت کیا کرنا ہے کوئی نہیں جانتا۔
ستیہ پال ملک کے حالیہ بیان کے تناظر میں کچھ بااثر سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ موصوف کا سجاد مخالف بیانیہ دراصل ایک سوچا سمجھا سیاسی داﺅ ہے جس کا بالواسطہ یا بلاواسطہ تعلق غلام نبی آزاد کی نئی سیاسی اننگز کے ساتھ بھی ہے۔ آزاد صاحب کو بھی ایک بڑا عوامی طبقہ مبینہ طور پر بی جے پی کی بی ٹیم قرار دیتے ہیں جیسا کہ سجاد لون ، الطاف بخاری اور کئی دوسروں کو بی جے پی کے ساتھی قرار دیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آزاد کے لئے سجاد لون ایک حریف ہیں۔ ان سیاسی پنڈتوں کا ماننا ہے کہ ستیہ پال ملک دراصل کسی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت سجاد لون کو عوامی نظر میں گرانا چاہتے ہیں جس کا براہ راست فائدہ آزاد کو مل سکتا ہے۔ ستیہ پال ملک ہی ہیں جنہوں نے آزاد کے روشنی ایکٹ کو منسوخ کرکے اسکی انکوائیری کا حکم صادر کیا تھا اور پھر فاروق عبداللہ ،محبوبہ مفتی پر زمینیں ہتھیانے کا الزام بھی دھر دیا تھا۔ لیکن بعد ازاں نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کی جوابی یلغار پر ”سوری، سوری“ کہہ کر اپنے بیان سے مکر بھی گئے تھے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ جس قانون کو انہوںنے مرکز کی ایماءپر غیر قانونی اور کرپشن زدہ قرار دیا تھا اور چاندماری کشمیری سیاسی پارٹیوں پر کی تھی اس کے موجد و بانی یعنی غلام نبی آزاد پر انہوں نے کوئی الزام یا تہمت نہیں دھری تھی۔ ایسے ہی عوامل ہیں کہ جن کی بناءپر کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ ستیہ پال ملک کا مذکورہ انٹرویو اور اس کے مندرجات کوئی الگ تھلگ یا سیاق و سباق سے ہٹا ہوا معاملہ نہیں ہے بلکہ ایک دیدہ و دانستہ معاملہ ہے جس کا ہدف جموں وکشمیر میں کرائے جانے والے انتخابات بھی ہوسکتے ہیں۔یہ مبصرین کہتے ہیں کہ ستیہ پال ملک چاہے کتنے بھی سچے کیوں نہ ہوں لیکن جموں وکشمیر پر سیدھا سچ نہ ماضی میں بولے ہیں اور نہ ہی اب بول رہے ہیں۔ یہ تو وہی ہیں جنہوں نے اسمبلی کو توڑنے کے لئے فیکس مشین کی خرابی کا نظریہ پیش کیا تھا اور حد یہ ہے کہ آج بھی اس مذاق کا دفاع کررہے ہیں۔ یہی ہیں جنہوں نے2019ءمیں دفعہ370 کی منسوخی کے بعد والے حالات پر راہول گاندھی کے کئی بیانات کے ردعمل میں انہیں چلنج کیا تھا کہ وہ خود آکر دیکھیں کہ یہاں حالات کس قدر پرسکون ہیں۔راہول نے بعد میں ٹویٹ کے ذریعہ اعلان کیا کہ اگر حکومت کانگریس کے وفد کی نقل و حرکت کو یقینی بنائے تو وہ کشمیر جائیں گے۔جبکہ اس سے چند روز قبل سابق کانگریس کے رہنما اور سابق مرکزی وزیر غلام نبی آزاد کشمیر کے دورے پر پہنچے تھے تو انھیں سرینگر کے ہوائی اڈے سے دلی واپس بھیج دیا گیا تھا۔یہی وجہ ہے کہ یہاں کئی مبصرین ان کے مطلق کہتے ہیں موصوف نے حساس اور غیر حساس نوعیت کے معاملات پر کبھی راست گوئی سے کا م نہیں لیا۔
بہرحال اگر ستیہ پال ملک صاحب نے جموں وکشمیر کے تعلق سے حساس اور غیر حساس معاملات پر کبھی سچ بولا ہوتا یا کچھ صاف گوئی سے کام لیا ہوتا توآج ان کی کہی کسی بات یا دعویٰ کی صحت کی جانب انگلی نہ اُٹھتی لیکن معاملہ اس کے برعکس ہے۔ مبصرین کا اسی لئے کہنا ہے کہ سچ تو یہ ہے کہ ستیہ پال ملک نے جو کچھ بھی کیا، جو اقدام اُٹھائے ان کے حوالوں سے اس کی نیت میں فتورتھا، وہ مخلص نہیں تھے، نہیں چاہتے کہ جموں وکشمیرمیں امن سلامتی اور استحکام رہے، چنانچہ اپنی ان نیتوں کو چھپانے کی بھر پور کوشش کرتے ہوئے وہ جھوٹ ہی کا سہارا لیتے رہے۔جتنی مدت تک ستیہ پال ملک راج بھون میں رہے اُس مدت کے دوران ان سے کوئی ایک کارنامہ یا اچھائی منسوب نہیں جس پر آج کی تاریخ میں وہ سینہ تان کر فخر کریں اور کہہ سکیں کہ بے شک وہ جموں وکشمیر کے لوگوں کی خیریت، فلاح اور ترقی کیلئے کچھ کردکھانے کا جذبہ بھی رکھتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ اُس مدت کے دوران اپنی سیاست اور اپنے سیاسی مشن ہی کی آبیاری کرتے رہے اور اسی مشن کو آگے بڑھانے میں مصروف رہے۔اور آج بھی غالباً وہی کچھ دہرارہے ہیں۔







