بارہمولہ:جموں و کشمیر میں پہلی بانہال سے بارہمولہ تک الیکٹرک ریل شروع کی جا رہی ہے۔ الیکٹرک ٹرین سروس شروع ہونے سے لوگوں میں خوشی کی لہر ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کو چاہیے کہ جلد سے جلد یہ ٹرین سروس شروع کی جائے۔ ٹرین شروع ہونے سے وقت کی بچت ہوگی جب کہ فضائی آلودگی میں بھی کمی آئے گی اور عوام کم کرائے میں سفر کر سکیں گے۔
وادی کشمیر میں اگلے ماہ اکتوبر سے بانہال۔بارہمولہ ریل کوریڈور پر پہلی مرتبہ الیکٹرک ٹرین دوڑے گی۔ 137 کلومیٹر طویل بانہال۔بارہمولہ لنک کو 2 اکتوبر سے الیکٹرک ریل سے جوڑا جائے گا۔حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں بڈگام اور بارہمولہ اسٹیشنز کے درمیان کُل 1271 بجلی کے کھمبے لگائے گئے ہیں، ان میں سب سے زیادہ 305 کھمبے سوپور اور بارہمولہ کے درمیان ہیں۔ حکام نے یہ بھی بتایا کہ بڈگام سے مازہوم، مازہوم سے پٹن، پٹن سے ہامرے اور ہامرے سے سوپور کے درمیان کھمبے لگائے گئے ہیں۔
حالانکہ جموں سے بانہال تک ٹرین کا کام ابھی تک مکمل نہیں ہوا ہے اس لیے لوگوں نے مطالبہ کیا کہ جلد سے جلد یہ کام بھی مکمل کیا جائے تاکہ بارش اور برفباری سے ہونے والی پریشانیوں سے نجات ملے۔ انہوں نے کہا کہ بارش اور برفباری سے جموں و کشمیر نیشنل ہائی وے بند ہو جاتی ہے اگر جموں سے بانہال تک ریل کا کام مکمل ہو جاتا ہے تو ہمیں مشکلات سے چھٹکارا مل جائے گا۔مقامی شخص یاسر آفتاب ملک نے ای ٹی وی بھارت کو بتایا کہ ‘حکومت کی جانب سے جموں و کشمیر میں الیکٹرک ٹرین کی شروعات اچھا قدم ہے کیوں کہ اس سے عوام کی مشکلات میں کمی ہوگی۔ سہیل ٹھاکر نامی شخص نے بتایا کہ ‘الیکٹرک ریل سروس شروع ہونے سے پہلے ہمیں جس کام کے لیے چار سے پانچ گھنٹوں سفر کرنا پڑتا تھا اب وہ کام دو گھنٹوں میں ہی مکمل ہوجائے گا نیز کرایہ بھی کم لگے گا۔ واضح رہے کہ سنہ 2013 میں کشمیر میں پہلی مرتبہ ٹرین سروس شروع کی گئی تھی۔







