(سرینگر) ڈائریکٹوریٹ آف اسکول ایجوکیشن کشمیر نے پرائیویٹ اسکولوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ والدین کو بچوں کی کتابیں اور وردی مخصوص دکانوں سے خریدنے کےلئے دباﺅ نہ ڈالیں ۔ محکمہ کی جانب سے حکمنامہ جاری کی گیا ہے جس میں نجی اسکولوں سے کہا گیا ہے کہ اگر کسی بھی اسکول کےخلاف اس طرح کی شکایت آتی ہے تو اس کی رجسٹریشن منسوخ کی جائے گی۔ اس دوران چیف ایجوکیشن آفیسر اور زونل افسران کے زیر نگرانی ٹیموں کے قیام کی بھی ہدایت کی گئی ہے جو اس معاملے کی نگرانی کرتی رہیں گے اور ہر ہفتے رپورٹ ڈائریکٹوریٹ آفس میں جمع کریں گے ۔ پرائیویٹ سکولوں کی جانب سے والدین کو مخصوص دکانوں سے کتابیں اور وردیاں خریدنے پر مجبور کرنے کی شکایات کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے محکمہ اسکول ایجوکیشن نے پرائیویٹ اسکولوں کو وارننگ دی ہے کہ اس طرح کی کارروائیوں میں ملوث اسکولوں کی رجسٹریشن منسوخ کردی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق کشمیر ڈائریکٹوریٹ آف اسکول ایجوکیشن نے نجی اسکولوں میں بچوں کو منتخب دکانوں سے یونیفارم اور کتابیں خریدنے پر مجبور کرنے کی شکایات کا نوٹس لیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ ایسی سرگرمیوں کو روکنے والے اسکولوں کی شناخت منسوخ کر دی جائے گی۔ ڈائریکٹوریٹ نے وادی کشمیر میں ایسی سرگرمیوں سے باز نہ آنے والے اسکول مینیجرز کو اسکول کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا انتباہ جاری کیا ہے۔ ساتھ ہی ایک سرکلر جاری کرتے ہوئے محکمہ تعلیم کو ضلعی سطح پر مانیٹرنگ کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ شکایات پر کارروائی کی رپورٹ ہر ہفتے ڈائریکٹوریٹ کو بھیجی جائے۔ یونیفارم اور کتابیں کہاں سے خریدیں، اس کا فیصلہ والدین خود کریں گے۔ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن نے سرکلر میں کہا ہے کہ تسلیم شدہ پرائیویٹ اسکول مینیجرز کے خلاف شکایات موصول ہو رہی ہیں۔ والدین کو چنیدہ دکانوں سے یونیفارم اور اسٹڈی میٹریل خریدنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ بچوں کے پاس دستیاب کتابوں کی جگہ پر اسکول کے منتظمین کو اپنے مقرر کردہ دکانداروں سے نئی کتابیں خریدنے کا کہا جا رہا ہے۔ڈائریکٹوریٹ نے کہا کہ ماضی میں اس سلسلے میں رہنما خطوط جاری کیے گئے ہیں، لیکن اب بھی شکایات موصول ہو رہی ہیں۔ چیف ایجوکیشن آفیسر، زونل ایجوکیشن آفیسر کی سربراہی میں مانیٹرنگ کمیٹی تشکیل دے کر شکایات کا سخت نوٹس لیا جائے۔ حکم کی خلاف ورزی کرنے والے اسکولوں کی رجسٹریشن منسوخ کی جا سکتی ہے۔ ڈائریکٹوریٹ نے کہا ہے کہ شکایات پر کی گئی کارروائی کی رپورٹ ہر ہفتے ڈائریکٹوریٹ کو پیش کی جائے۔










