(سرینگر) نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمان برائے جنوبی کشمیر جسٹس (ر) حسنین مسعودی نے کہا ہے کہ اکتوبر میں ہونے والی قابل از وقت برف باری کے بعد مالکانِ باغات کو مناسب معاوضہ فراہم کرنے میں موجودہ انتظامیہ کی نااہلی نے پھل اُگانے والوں کو زبردست مالی پریشانی کے بھنور میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بے وقت برفباری سے جنوبی کشمیر میں بہت زیادہ نقصان ہوا اور کولگام، دمحال حانجی پورہ، ہوم شالی بُگ اور دیوسر سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ ان باتوں کا اظہار انہوں نے ژولگام کولگام میں پارٹی لیڈران اور عہدیداران کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقعے پر پارٹی کی اسٹیٹ سکریٹری سکینہ ایتو، ضلع صدر کولگام ایڈوکیٹ عبدالمجید لارمی، انچارج کانسچونسی کولگام عمران نبی ڈار، ذونل سیکٹری جنوبی کشمیر ایڈوکیٹ عبدا رحمان تانترے، ضلع سکریٹری صفدر خان، ضلع صدر یوتھ عادل گورو، بلاک صدور صاحبان کے علاوہ ضلع کے چاروں حلقہ انتخابات کے عہدیداران بھی موجود تھے۔ اجلاس کے دوران پارٹی لیڈران نے رکن پارلیمان کو اپنے اپنے علاقوں میں بجلی کی بدترین سپلائی پوزیشن اور پینے کے پانی کی قلت کی صورتحال سے واقف کروایا۔ مالکانِ باغات کی حالات زار بیان کرتے ہوئے پارٹی لیڈران حکومت کی طرف سے اعلان کردہ معاوضے کو ناکافی قرار دیا اور کہا کہ متاثرین کے باغات کو تقریباً 80 فیصد نقصان پہنچا ہے اور اعلان کردہ معاوضہ زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہوگا۔ اس کے علاوہ رکن پارلیمان کو ضلع میں تعمیر و ترقی کے کام ٹھپ ہونے کے بارے میں بھی آگہی دلائی گئی۔ اس کے علاوہ لیڈران نے رکن پارلیمان کی توجہ گذشتہ برسوں کے دوران ضلع کے ہیلتھ سیکٹر کی تجدید میں انتظامیہ کی ناکامی کی طرف مرکوز کرائی۔ حالیہ برفباری کے بعد لوگوں کو راحت پہنچانے میں انتظامیہ کی ناکامی کا خلاصہ کرتے ہوئے شرکاء نے کہا کہ ضلع میں خراب ٹرانسفارمروں، ترسیلی لائنوں، پلوں اور کلورٹوں کی مرمت کیلئے کوئی بھی تسلی بخش اقدامات نہیں کئے گئے۔ لیڈران نے کہا کہ اشیاءضروریہ اور خورد ونوش کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہے اور مہنگائی عروج پر ہے لیکن انتظامی سطح پر قیمتوں کو اعتدال میں رکھنے کیلئے کوئی بھی اقدام نہیں اُٹھایا جارہا ہے۔ بازاروں میں لوگوں کو دو دو ہاتھوں سے لوٹا جارہا ہے اور انتظامیہ اس سب صورتحال کی خاموش تماشائی بن بیٹھی ہے۔ رکن پارلیمان حسنین مسعودی نے اجلاس کے شرکاءکو یقین دہانی کرائی وہ تمام مسائل متعلقہ حکام کے ساتھ اٹھائیں گے اور ان کا سدباب کرانے کی حق ممکن کوشش کی جائے گی۔










