امت نیوز ڈیسک //
:سرینگر (جموں و کشمیر) : جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز مرکزی سرکار کو ایک بار پھر دفعہ 370 کے معاملے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سماجی رابطہ ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنا بیان جاری کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ "لیہہ میں احتجاج اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ دفعہ 370 کی منسوخی جموں و کشمیر کے لوگوں کے خلاف تھی۔” اُن کا مزید کہنا تھا کہ "خوش قسمتی سے لداخ کے لوگ کشمیر کے برعکس پرامن احتجاج کرنے کا حق حاصل رکھتے ہیں لیکن یہاں لوگ آزادی سے سانس بھی نہیں لے سکتے۔”
واضع رہے کہ کرگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) نے لیہہ اپیکس باڈی (ایل اے بی) کے ساتھ مل کر بدھ کو لداخ بند منایا۔ لیہہ میں سینکڑوں کی تعداد میں احتجاجیوں نے لداخ کے لیے ریاستی درجہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔واضح رہے کہ لداخ کو 5 آگست 2019 کو جموں و کشمیر ریاست سے الگ کر کے یونین ٹریٹری کا درجہ دیا گیا ہے۔
کے ڈی اے کے مطابق بدھ کے روز لداخ میں ہڑتال کی پہلی کڑی کے تحت پرامن احتجاج نکال گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس احتجاج کا مقصد لداخ کے لوگوں کی نمائندگی اور ان کو سیاسی طور پر با اختیار بنانا کی ضرورت ہے۔ کے ڈی اے اور ایل اے بی کے چارٹر آف ڈیمانڈز میں لداخ کو ریاست کا درجہ دینا، لداخ کو آئین کے چھٹے شیڈول کے تحت شامل کرنا، اور لوک سبھا کے ارکان کی تعداد ایک سے بڑھا کر دو کرنا، اس کے علاوہ راجیہ سبھا میں لداخ کی نمائندگی شامل ہے۔
اس حوالے سے سماجی کارکن ساجد کرگیلی کا کہنا تھا کہ "پہلے ہماری زمینوں، شناخت، ثقافت اور ملازمتوں کے تحفظات تھے لیکن دفعہ 370 اور 35 اے کی منسوخی نے انہیں ختم کر دیا۔ جہاں ہم نے لداخ پر لداخیوں کی حکمرانی کی وکالت کی تھی، وہیں یہاں کی ایک نوکر شاہی نے سیاسی عمل اور پالیسی سازی میں لوگوں کی تھوڑی سی شرکت اور شمولیت کو ختم کر دیا ہے۔”کرگیلی کے مطابق کے ڈی اے اور ایل اے بی نے کئی مواقع پر وزارت داخلہ کے ساتھ اپنے مسائل پر تبادلہ خیال کیا، لیکن مسئلہ حل کرنے کے بجائے اسے صرف تاخیر کیا جاتا ہے۔کرگل ڈیموکریٹک الائنس اور لیہہ اپیکس باڈی نے 29 نومبر کو طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کی طرف سے سڑکوں پر احتجاج کی منصوبہ بندی کر رہے ۔










