امت نیوز ڈیسک //
بارہمولہ:کشمیر میں جو عسکریت پسندی کا ماحول تھا وہ لگ بھگ ختم ہو چکا ہے۔ کشمیر کی سکیورٹی صورتحال پر ٹائم ٹو ٹائم جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس وقت کشمیر میں غیر ملکی عسکریت پسندوں کی تعداد بہت کم ہیں۔ ان باتوں کا اظہار جموں وکشمیر پولیس کے سربراہ دلباغ سنگھ نے بارہمولہ میں ایک افتتاحی تقریب کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کیا۔
کشمیر میں غیر ملکی عسکریت پسندوں کی تعداد بہت کم، ڈی جی پیڈی جی پی دلباغ سنگھ نے کہا کہ کشمیر فائٹ بلاگ پاکستان کی سرزمین سے چلایا جاتا ہے جس سے یہاں کے عام لوگوں کو ہلاک کیا جاتا ہے۔پاکستان کے آئی ایس آئی کشمیر میں پر امن ماحول کو خراب کرتے ہے اور یہاں کی عوام کی خوشحالی اور ترقی وہ دیکھ نہیں سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر فائٹ بلاگ ان کا بلاگ ہے جو کشمیر میں موت کے ماتم کو پسند کرتے ہے۔ اس لیے جب بھی یہاں کوئی اچھی بات ہوتے تو وہ اس سے ناپسند کرتے ہے۔
دلباغ سنگھ نے کہا کہ چار سال سے کشمیر میں پتھر بازی کا ایک بھی واقعہ پیش نہیں آیا اور آج کشمیر کی عوام امن شانتی ، ترقی اور ترقیاتی کاموں میں حصہ داری پسند کرتے ہیں۔ اس کے برعکس کشمیر بلاگ چلانے والے لوگوں کو یہ سب کچھ پسند نہیں ہے۔کشمیر فائٹ بلاگ اسے لیے لوگوں کو دھمکی دے رہا ہے جس کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کرنے کی ضرورت ہیں۔
ڈی جی پی نے کہا کہ کشمیر میں غیر ملکی عسکریت پسندوں کی تعداد بہت کم ہے جو کشمیر کو تباہ اور برباد کرنے میں لگے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی جاری ہے اور امید ہے کہ کشمیر میں امن ا مان برقرار ہو۔
واضح رہے کہ شمالی کشمیر ضلع بارہمولہ کے میں چوک میں آج ڈی جی پی دلباغ سنگھ نے بنداس چوک کا افتاح کیا۔اس چوک کو اس لئے بنداس چوک کا نام رکھا گیا کیونکہ پولیس کے ایک جوان مدثر احمد ڈیوٹی کے دوران کریری جھڑپ میں ہلاک ہوئے تھے۔









